حیدرآباد کی سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے چھوڑنا حکمتِ عملی نہیں، سنگین انتظامی غفلت ہے، وزیراعلیٰ سندھ فوری تحقیقات کرائیں

وزیراعلیٰ سندھ کا وضاحتی بیان منصب کے شایانِ شان نہیں، عوامی پیسے سے تعمیر ہونے والی سڑک کو حیسکو پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنانا کہاں کی حکمتِ عملی ہے؟ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کیا جائے، عوامی حلقے۔l

حیدرآباد:خصوصی رپورٹ راحت کاظمی

حیدرآباد میں سڑک کی تعمیر کے دوران بجلی کے کھمبے درمیان میں چھوڑنے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی وضاحت نے ایک نئے بحث کو جنم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا یہ کہنا کہ حیسکو پر دباؤ ڈالنے کے لیے پہلے سڑک تعمیر کی گئی تاکہ میڈیا اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں کھمبے منتقل کیے جائیں، شہری حلقوں کے نزدیک نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ایک سنجیدہ انتظامی معاملے کو حکمتِ عملی قرار دے کر اس کی سنگینی کم کرنے کے مترادف ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور اس منصب پر بیٹھ کر انہیں ایسے معاملات کا تمسخر اڑانے یا انہیں معمولی قرار دینے کے بجائے فوری اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگر حکومت نے بجلی کے کھمبے منتقل کرنے کے لیے حیسکو کو رقم ادا کر دی تھی تو پھر سڑک کی تعمیر کھمبے ہٹائے بغیر شروع کرنے کی اجازت کس نے دی؟ متعلقہ محکموں نے منصوبے کی منظوری کس بنیاد پر دی؟ ٹھیکیدار نے رکاوٹیں موجود ہونے کے باوجود تعمیراتی کام کیسے مکمل کیا؟ اور نگرانی کرنے والے افسران نے اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کیں؟

یہ محض ایک سڑک کے درمیان کھمبے چھوڑ دینے کا معاملہ نہیں بلکہ سرکاری منصوبوں کی منصوبہ بندی، نگرانی، شفافیت اور عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم کے درست استعمال کا سوال ہے۔ اگر پہلے سڑک تعمیر کی گئی اور بعد میں کھمبے ہٹانے کا انتظار کیا جا رہا ہے تو اس دوران سڑک کو دوبارہ کھودنے، تعمیراتی کام کو متاثر کرنے اور سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑنے کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے بیان میں بتایا کہ 100 میں سے 25 کھمبے ہٹائے جا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ باقی 75 کھمبے کب منتقل ہوں گے؟ اس کام کی تکمیل کی حتمی تاریخ کیا ہے؟ حیسکو کو ادائیگی کب اور کتنی کی گئی؟ اور ادائیگی کے باوجود کام میں تاخیر کے ذمہ دار کون ہیں؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کریں، جس میں متعلقہ محکموں کے علاوہ کسی غیر جانب دار ادارے کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ کمیٹی اس پورے منصوبے کا جائزہ لے، حیسکو کو کی جانے والی ادائیگیوں، ٹھیکے کی شرائط، تعمیراتی منظوریوں اور افسران کی نگرانی کے کردار کی تحقیقات کرے۔

تحقیقات میں اگر ٹھیکیدار، متعلقہ سرکاری افسران، منصوبے کے نگران یا کسی دوسرے ذمہ دار کی غفلت، کوتاہی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا تعین ہوتا ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔ اگر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا ہے تو اس کا تعین کرکے ذمہ داروں سے وصولی بھی کی جائے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی اصل ذمہ داری حیسکو پر دباؤ ڈالنے کے لیے عوام کے پیسے سے بننے والی سڑک کو تجربہ گاہ بنانا نہیں بلکہ سرکاری اداروں کو ان کی ذمہ داریوں کا پابند بنانا ہے۔ عوام کا پیسہ کسی سیاسی یا انتظامی حکمتِ عملی کے تجربات کے لیے نہیں بلکہ عوامی سہولت کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو محض ایک وضاحت یا بیان تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کرکے ثابت کریں کہ سندھ حکومت عوام کے پیسے کی محافظ ہے اور سرکاری وسائل کے ضیاع یا انتظامی غفلت میں ملوث کسی بھی شخص کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

شہریوں کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ کھمبے ہٹانے کے ساتھ ساتھ اس غیر معمولی منصوبہ بندی کی بھی تحقیقات کی جائیں، کیونکہ عوام کو صرف سڑک نہیں بلکہ ذمہ دار اور جوابدہ حکومت بھی چاہیے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*