
المدار چوک کی سڑک پر بجلی کے دیوہیکل کھمبے برقرار، سوشل میڈیا پر میئر حیدرآباد کی کارکردگی زیرِ بحث، اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے آڈٹ . تحقیقات اور کاشف شورو کو ہٹانے کا مطالبہ
حیدرآباد: (خصوصی رپورٹ،راحت کاظمی)
حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، تعمیراتی معیار اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ المدار چوک کی زیرِ بحث سڑک کی تعمیر کے بعد بھی سڑک کے درمیان موجود بجلی کے دیوہیکل کھمبے نہ ہٹائے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد میئر حیدرآباد اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ شہری حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر سڑک کو عوام کے استعمال کے لیے کھول دیا گیا تھا تو اس کے درمیان بجلی کے بڑے کھمبے کیوں موجود تھے؟ کیا ترقیاتی منصوبے شروع کرنے سے پہلے بنیادی ضروریات اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری نہیں؟
حیدرآباد کے میئر کی جانب سے شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کرانے اور حیدرآباد کو ترقی یافتہ شہر بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم المدار چوک کی سڑک کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو نے ان دعوؤں کے عملی پہلوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، نگرانی اور تکمیل کے طریقۂ کار پر بھی بحث جاری ہے۔
سڑک پہلے بنائی گئی یا منصوبہ بندی پہلے کی گئی؟
اس معاملے پر طنزیہ انداز میں کہا جا رہا ہے کہ سڑک بنانے کا طریقہ تو کوئی حیدرآباد کی انتظامیہ سے سیکھے؛ پہلے سڑک تعمیر کی جائے، پھر بجلی کے کھمبے ہٹانے کا مرحلہ آئے، اس کے بعد دوبارہ کھدائی کی جائے اور پھر سڑک کو عوام کے لیے کھول دیا جائے۔ اگر واقعی کسی ترقیاتی منصوبے میں اس نوعیت کی ترتیب اختیار کی گئی ہے تو یہ منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی رابطوں کے نظام پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں عام طور پر سڑک کی تعمیر سے قبل بجلی کے کھمبوں، زیرِ زمین لائنوں، نکاسیٔ آب اور دیگر تنصیبات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ ضروری ہوتا ہے تاکہ تعمیر کے بعد دوبارہ سڑک توڑنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ المدار چوک کے معاملے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ منصوبے کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی، تعمیراتی کام کی نگرانی کس نے کی اور بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے۔
بجلی کے کھمبے کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں
سڑک کے درمیان موجود بجلی کے بڑے کھمبے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر کر سکتے ہیں بلکہ مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی صورت میں حادثات کا خطرہ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ بالخصوص رات کے وقت، کم روشنی میں یا تیز رفتار ٹریفک کے دوران ایسے کھمبے موٹر سائیکل سواروں اور دیگر شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس لیے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر موقع کا معائنہ کریں، کھمبوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لیں اور سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ عوامی تحفظ کے معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت کو معمولی انتظامی غلطی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ویڈیو وائرل، میئر کی میڈیا ٹیم بھی دفاع میں سامنے آگئی
المدار چوک کی سڑک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد میئر حیدرآباد کی میڈیا ٹیم کی جانب سے وضاحتی بیانات سامنے آنے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب میئر کے ترجمان کی جانب سے ان کے دفاع میں مؤقف پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم اس معاملے میں بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر سڑک کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا تھا تو اسے عوام کے استعمال کے لیے کھولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر سڑک عوام کے لیے کھول دی گئی تھی تو بجلی کے کھمبوں کی منتقلی اور حفاظتی انتظامات مکمل کیوں نہیں کیے گئے؟
ان سوالات کے جوابات متعلقہ حکام کی وضاحت، منصوبے کے ریکارڈ اور موقع کے حقائق سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے۔
اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے، شفاف تحقیقات کا مطالبہ
میئر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے دعوؤں کے تناظر میں شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ المدار چوک کی سڑک سمیت شہر میں جاری اور مکمل کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کا شفاف اور غیر جانب دارانہ آڈٹ کرایا جائے۔
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور محکمہ اینٹی کرپشن اپنے دائرۂ اختیار اور دستیاب شواہد کی روشنی میں اس معاملے کا جائزہ لیں۔ تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے کہ منصوبے کی منظوری کس نے دی، تعمیراتی کام کے لیے کتنی رقم مختص اور جاری کی گئی، متعلقہ انجینئرز اور افسران نے نگرانی کے فرائض کس حد تک انجام دیے اور بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کے معاملے کو منصوبے میں کس طرح شامل کیا گیا تھا۔
اگر تحقیقات کے دوران مالی بے ضابطگی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور جہاں قانونی طور پر ممکن ہو، سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی بھی کی جائے۔
متعلقہ افسران اور انجینئرز کا کردار بھی جانچا جائے
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی صرف سڑک تعمیر کر دینے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کی منصوبہ بندی، معیار، حفاظت اور بروقت تکمیل بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ منصوبے کی منظوری دینے والے حکام، متعلقہ انجینئرز، نگرانی کرنے والے افسران اور فنڈز جاری کرنے کے ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی سطح پر غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
اسی طرح میئر کی سوشل میڈیا ٹیم اور ترجمان کی وضاحتوں کے بجائے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے دستاویزی شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر شہریوں کو اعتماد میں لیں۔
میئر کے بھائی کی وزارت اور انتظامی کردار پر بھی سوالات
شہری حلقوں کی جانب سے میئر حیدرآباد کے بھائی، جو صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات (پی اینڈ ڈی) ہیں، کے انتظامی کردار اور متعلقہ ترقیاتی منصوبوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم کسی فرد کی ذمہ داری کا تعین صرف خاندانی تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ متعلقہ اختیارات، دستاویزی ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی متعلقہ محکمے یا عہدیدار کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔
چار سالہ کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے
حیدرآباد کے شہریوں کو صاف ستھری سڑکیں، بہتر نکاسیٔ آب، محفوظ ٹریفک اور معیاری شہری سہولیات فراہم کرنا بلدیاتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے مختص ہونے والے عوامی فنڈز کا مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی شفاف نگرانی بھی ناگزیر ہے۔
المدار چوک کی سڑک کا معاملہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ میئر حیدرآباد کی چار سالہ کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقوم اور ان منصوبوں کے معیار کا جامع جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی منصوبے میں غفلت یا مالی بے ضابطگی سامنے آئے تو اس کی ذمہ داری متعین کی جائے۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور ضرورت پڑنے پر کسی غیر جانب دار، تجربہ کار افسر کو انتظامی ذمہ داریاں سونپنے سمیت تمام قانونی و انتظامی امکانات کا جائزہ لے۔
عوام کو دعوے نہیں، عملی ترقی چاہیے
حیدرآباد کے شہریوں کا بنیادی مطالبہ کسی سیاسی شخصیت کے خلاف محض بیان بازی نہیں بلکہ شہر کے وسائل کے شفاف استعمال، ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
المدار چوک کی سڑک پر بجلی کے کھمبوں کی موجودگی سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب وضاحتوں اور سیاسی بیانات کے بجائے حقائق، ریکارڈ اور عملی اقدامات سے دیا جانا چاہیے۔ اگر سڑک کی تعمیر اور بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کے درمیان رابطے کا فقدان سامنے آتا ہے تو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر طریقۂ کار وضع کیا جائے۔
