
علشبہ علی
کنٹونمنٹس مانگنے سے پہلے، اپنے میئر کو اختیار تو دیجیے!
نجمی عالم کا یہ مطالبہ کہ پہلے کراچی کے تمام کنٹونمنٹس میئر کے حوالے کیے جائیں، پھر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات ہو، سندھ حکومت کے سامنے خود ایک مشکل سوال رکھ دیتا ہے: جو حکومت اپنے دائرۂ اختیار میں مؤثر بلدیاتی نظام قائم نہیں کر سکی، وہ مزید علاقوں کا انتظام سنبھالنے کی ضمانت کس کارکردگی کی بنیاد پر دے رہی ہے؟ پیپلز پارٹی ۲۰۰۸ سے سندھ کی منتخب حکومتوں کی قیادت کرتی آئی ہے؛ تقریباً اٹھارہ برس کا یہ سیاسی تسلسل انتظامی اصلاحات جانچنے کے لیے مختصر مدت نہیں۔ مسئلے کی جڑ سمجھنے کے لیے میئر کی کرسی اور اُس کے قانونی اختیار میں فرق دیکھیے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایکٹ ۲۰۲۳ کی دفعہ ۵ میئر کو بورڈ کا چیئرپرسن بناتی ہے، لیکن دفعہ ۷(v) اسامیوں، عملے اور ملازمت کی شرائط سے متعلق اختیار کو حکومتی منظوری سے جوڑتی ہے؛ دفعہ ۸ حکومتی پالیسی ہدایات کی گنجائش رکھتی ہے، جبکہ دفعہ ۱۰(b) کارپوریشن کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی اسکیموں کی منظوری حکومت کے ذمے رکھتی ہے۔ یہ مکمل بے اختیاری نہیں، مگر مکمل خودمختاری بھی نہیں۔ نجمی عالم جس میئر کے لیے مزید علاقے مانگ رہے ہیں، اُس کے موجودہ ادارے میں بھی اہم منظوریوں کی چابی صوبے کے پاس ہے۔ مراد علی شاہ کی حکومت سے یہ پوچھنا اس لیے ضروری ہے کہ اختیارات کی منتقلی کا مطالبہ باہر کے اداروں سے تو کیا جاتا ہے، مگر اپنے انتظام میں وہی اصول پوری طرح نافذ کیوں نہیں ہوتا؟ کراچی کو ایسی میئرشپ سے کیا فائدہ جس میں شہری سربراہ سے جواب مانگے اور سربراہ جواب کے لیے دوسرے دفتر کا رخ دیکھے؟
صفائی کے شعبے میں یہ تضاد محض سیاسی الزام نہیں، اسمبلی کی نگرانی کے عمل میں سامنے آنے والا معاملہ ہے۔ ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶ کی ڈان رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نشاندہی کی کہ ۲۰۲۱ کے قانون کے تحت میئرز کی سربراہی میں مطلوبہ ڈویژنل سالڈ ویسٹ بورڈز تشکیل نہیں دیے گئے اور قواعد بھی وضع نہیں ہوئے۔ ادارے کے سربراہ نے اجلاس میں کراچی سے کچرا اٹھانے پر سالانہ ۲۴ ارب روپے خرچ ہونے اور روزانہ ۱۰ سے ۱۲ ہزار ٹن کچرا اٹھانے کی بات کی؛ اسی اجلاس میں اورنگی، نیو کراچی اور ناظم آباد سمیت علاقوں میں کچرا پڑے رہنے کی شکایات اٹھیں، اور کمیٹی نے ضلع وار اخراجات اور کارکردگی کا حساب طلب کیا۔ یعنی کچرا روزانہ پیدا ہوتا رہا، مقامی نگرانی کا مطلوبہ انتظام قائم نہ ہوا، اور شہری شکایت کرتے رہے۔ دوسری طرف مالی سال ۲۰۲۶–۲۷ کے لیے KMC کا تقریباً ۶۰ ارب ۴۵ کروڑ روپے کا بجٹ منظور ہوا، جس میں اپنے وسائل سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ۸ ارب ۵۹ کروڑ اور ڈسٹرکٹ ترقیاتی پروگرام کے تحت ۹ ارب روپے مختص ہوئے؛ برساتی نالوں کی صفائی کے لیے ۸۰ کروڑ روپے رکھے گئے۔ پورا بجٹ ترقیاتی کاموں کے لیے دستیاب نہیں، پنشن اور دوسری ذمہ داریاں بھی ہیں، مگر دستیاب رقوم کے نتائج مانگنا عوام کا حق ہے۔ یہ اعداد بدعنوانی کا خودکار ثبوت نہیں، لیکن صرف وسائل کی کمی کو ہر خرابی کا جواب بنانے کی گنجائش ضرور کم کرتے ہیں۔ میئر مرتضیٰ وہاب کو بھی واضح کرنا چاہیے کہ کون سا کام اُن کے اختیار سے رکا، کون سی تجویز صوبائی منظوری کی منتظر ہے، اور موجودہ اختیار سے کیا نتیجہ حاصل ہوا۔ افتتاح کی تصویر میں قیادت اپنی اور شکایت کے جواب میں ذمہ داری کسی اور کی ہو، تو عوام کارکردگی کیسے جانچیں؟
پانی کی صورتِ حال اس بحث کو مزید سنجیدہ بناتی ہے۔ ستمبر ۲۰۲۶ کی رپورٹ میں کراچی کی روزانہ طلب تقریباً ۱۲۰ کروڑ گیلن اور فراہمی ۵۵ سے ۶۵ کروڑ گیلن بتائی گئی، یعنی انہی اعداد کے مطابق ۵۵ سے ۶۵ کروڑ گیلن یومیہ کا خلا۔ اسی رپورٹ میں DHA اور کلفٹن کے لیے ۱۴ ارب روپے کی پائپ لائن کے معاہدے اور روزانہ ایک کروڑ گیلن اضافی فراہمی کے ہدف کا ذکر ہے۔ یہ صوبائی حکومت اور واٹر کارپوریشن کا مشترکہ اقدام تھا، جو بتاتا ہے کہ موجودہ انتظامی حدود میں بھی تعاون ممکن ہے؛ اب اس کی اصل کسوٹی بروقت تکمیل اور گھروں تک پانی پہنچنا ہے۔ کنٹونمنٹس کے ہر علاقے کو مکمل سہولتوں کی جنت کہنا بھی درست نہیں: ۶ اکتوبر کی ڈان رپورٹ میں کلفٹن اور ڈیفنس کی پانی کی قلت اور CBC کی ٹینکر سروس میں تاخیر درج ہے۔ اسی لیے اصل مقابلہ خوب صورت داخلی دروازوں اور سیاسی تقریروں کا نہیں، قابلِ پیمائش خدمت کا ہونا چاہیے۔ نجمی عالم اپنے مطالبے کے ساتھ بتائیں کہ نئے انتظام میں پانی کتنی باقاعدگی سے ملے گا، کچرا کتنی مدت میں اٹھے گا، سیوریج کی شکایت کون حل کرے گا اور ناکامی پر کس افسر کا احتساب ہوگا۔ لیاری ہو، اورنگی ہو یا DHA، ہر شہری ایک ہی درجے کی بنیادی سہولت کا حق دار ہے۔ موجودہ نظام کی خامیاں برقرار رکھ کر اُس کا نقشہ بڑا کر دینا اصلاح نہیں؛ اس سے شکایتوں کا دائرہ بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ کنٹونمنٹس حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے سندھ حکومت اپنے میئر کو مؤثر اختیار، شہریوں کو واضح جواب دہی اور کراچی کو قابلِ اعتماد خدمت دے، تالیاں تقریر سے مل سکتی ہیں، انتظام چلانے کی سند کارکردگی سے ملتی ہے۔
