نارتھ ناظم آباد میں 16 کروڑ کا رہائشی پلاٹ کمرشل ظاہر کرنے کا انکشاف، کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر سوالات اٹھ گئے

کراچی رپورٹ (ایے آر ملک ) نارتھ ناظم آباد بلاک R میں واقع کروڑوں روپے مالیت کے ایک قیمتی رہائشی پلاٹ کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر کمرشل ظاہر کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس کے بعد کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ریکارڈ پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نارتھ ناظم آباد، بلاک R میں واقع 600 مربع گز کے رہائشی پلاٹ نمبر C-19، جس کی مارکیٹ مالیت تقریباً 16 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے، کو کمرشل ظاہر کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر ماسٹر پلان میں اس پلاٹ کی رہائشی سے کمرشل حیثیت میں تبدیلی (Commercialization) کا کوئی بھی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماسٹر پلان کی تصدیق اور متعلقہ نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کی عدم موجودگی اور مکمل جانچ پڑتال کے بغیر ہی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے پلاٹ کا اسکرونٹی چالان جاری کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کے ڈی اے کی کمرشل برانچ اور لینڈ ڈپارٹمنٹ میں مبینہ طور پر ایک متنازع میوٹیشن فارم کی منظوری بھی دے دی گئی، جو محکمے کے اندرونی نظام اور ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ زرائع کا مزید کہنا ہے کہ ریکوائر کا چلان بھی ریکوائری ڈپارٹمنٹ اس نہیں لیا گیا اس کے بغیر ہی آئی ٹی ڈپارٹمنٹ سے اس کی موٹیشن جاری کردی گئی ہے
اگر ان الزامات کی اعلیٰ سطح پر تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، جعل سازی اور قومی خزانے کو کمرشلائزیشن فیس اور ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا ایک بڑا کیس ثابت ہو سکتا ہے۔ عوامی حلقوں اور اسٹیک ہولڈرز نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، پلاٹ کی قانونی حیثیت اور کمرشل استعمال کی منظوری کی بنیاد کی شفاف جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے والے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کا تعین کر کے حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*