’کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے عرفان بلوچ کی نگرانی میں جے آئی ٹی اور ذمے دار افسران کے خلاف کارروائی کی کمیٹی تشکیل

کراچی(کرائم رپورٹر)عرفان بلوچ کی نگرانی میں میر رضا کیس کی جے آئی ٹی بنائی جائے گی، پولیس افسران کے خلاف کاروائی کیلئے گریڈ20کے افسر ذوالفقار لاڑک کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دیدی گئی‘ صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضےاءالحسن لنجار نے نوجوان میر رضا علی کی موت اور شواہد کے حصول میں غفلت برتنے والوں کے تعین مزید غفلت نہ برتنے کیلئے اعلیٰ افسران کا انتخاب کرلیا۔ تفصیلات ک مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیاءلنجار نے کہا ہے کہ عرفان بلوچ کی نگرانی میں میر رضا کیس کی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی، جے آئی ٹی کی تشکیل کی سمری وزیراعلی کو بھیج رہے ہیں۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس افسران کیخلاف کارروائی کے لیے ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی ہے، کمیٹی پولیس سے متعلق کمیشن کی سفارشات پر عمل کرے گی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز میر رضا قتل سے متعلق کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے کنوینر وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کی تھی۔ترجمان کے مطابق کمیٹی نے کمیشن رپورٹ کے نتائج اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ? کار پرمشاورت کی، اجلاس میں رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاو¿سنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاو¿نٹس بند کر دیے گئے تھے۔پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تھا، ڈرائیور نے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*