
کراچی : ایک جانب عوام کو سوئی گیس کے کم پریشر اور لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے تو دوسری جانب مارکیٹ میں ایل پی جی بھی بلیک میں ملنے لگی ہے۔
حکومت کی جانب سے ایل پی جی کا ریٹ 279 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے لیکن شہر کی پرچون مارکیٹ میں ایل پی جی 430 سے 480 روپے میں فروخت ہونے لگی ہے۔
اس حوالے سے چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں ایل این جی 600 روپےفی کلو تک پہنچ گئی، وہاں گھریلو سلنڈر7200روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
عرفان کھوکھر نے بتایا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا میں گیس 500 روپے کلو میں فروخت ہورہی ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر6 ہزار روپے کا فروخت ہورہا ہے۔
چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا مزید کہنا ہے کہ اوگرا نے اکتوبر کیلئے 279روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر کی قیمت 3350 مقرر کر رکھی ہے، حکومت قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے اپنے ایس ایس جی سی ٹرمینل کو استعمال کرے،اور قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے ایل پی جی فوری طور پر امپورٹ کی جائے۔
علاوہ ازیں شہریوں کی جانب سے بھی شکوہ کیا گیا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی کمر توڑ دی ہے اور ہم سوئی گیس کے بل بھی ادا کرتے ہیں اور مہنگے داموں ایل پی جی بھی خریدتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سفید پوش طبقہ پس رہا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، شہریوں نے ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری ریٹس پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
