سانحۂ کارساز جمہوریت کے لہو سے لکھی گئی تاریخ، وفا کی لازوال داستان

تحریر: شرجیل انعام میمن

تاریخ کے سینے پر بعض سانحات ایسے نقش ہو جاتے ہیں جنہیں گردشِ ایام کی کوئی آندھی مٹا نہیں سکتی۔ وقت کی رفتار بہت سے زخموں پر گرد ڈال دیتی ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، عہد و پیمان کی صورتیں تبدیل ہو جاتی ہیں، تخت و تاج نئے وارثوں کے حوالے ہو جاتے ہیں، مگر بعض دن انسانی حافظے ہی نہیں، قوموں کے اجتماعی ضمیر پر بھی ثبت ہو جاتے ہیں۔ 18 اکتوبر 2007ء بھی ہماری قومی تاریخ کا ایسا ہی ایک دن ہے؛ ایک ایسا دن جس کی صبح جمہوری امیدوں کے اجالے سے عبارت تھی، جس کی شام عوامی محبت کے بے کراں اظہار سے معمور تھی، مگر جس کی رات بارود کی بو، لہو کی سرخی، ماؤں کی آہوں، بہنوں کی سسکیوں اور یتیم بچوں کی بے بسی کے حوالے ہو گئی۔

سانحۂ کارساز محض ایک دہشت گردانہ حملے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس عہد کی سیاسی تاریخ کا ایک خونچکاں باب ہے جس میں پاکستان کے عوام کی جمہوری آرزوؤں کو خوف کے حصار میں مقید کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ان بے شمار انسانوں کی قربانیوں کی داستان ہے جو اپنی قائد، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، کے استقبال کے لیے گھروں سے نکلے تھے؛ جن کے دلوں میں امید کے چراغ روشن تھے؛ جن کی نگاہوں میں ایک جمہوری، منصفانہ اور باوقار پاکستان کا خواب تھا؛ اور جنہوں نے شاید اپنے وہم و گمان میں بھی یہ تصور نہ کیا ہو کہ اپنے ہی وطن کی سرزمین پر اپنے ہی جمہوری حق کے اظہار کی قیمت انہیں اپنی جانوں سے ادا کرنا پڑے گی۔

18 اکتوبر 2007ء کو جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو آٹھ برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹیں تو کراچی کی شاہراہیں عوامی محبت کے ایک بے مثال منظر کی گواہ بن گئیں۔ شہر کے کوچہ و بازار، گلیاں اور سڑکیں، ہر سمت انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیتا تھا۔ کہیں بزرگ اپنی محبوب قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے چشم براہ تھے، کہیں نوجوان اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے کھڑے تھے، کہیں مائیں اپنے بچوں کو لے کر آئی تھیں، کہیں مزدوروں کے ہاتھوں میں امید کی لکیریں تھیں اور کہیں محروم و محکوم طبقات کے چہروں پر اس یقین کی روشنی تھی کہ شاید اب ان کی آواز ایک مرتبہ پھر ایوانِ اقتدار تک پہنچے گی۔

یہ محض ایک سیاسی رہنما کی وطن واپسی نہ تھی؛ یہ ایک طویل سیاسی جدوجہد کے نئے باب کا آغاز تھا۔ یہ جمہوریت کے اس تسلسل کی بحالی کی امید تھی جسے آمریت، سیاسی پابندیوں، جلاوطنی اور اقتدار کی کشمکش نے بارہا منقطع کرنے کی کوشش کی تھی۔ عوام اپنی قائد کا استقبال کرنے نہیں، دراصل اپنی آرزوؤں، اپنے سیاسی حق، اپنی اجتماعی شناخت اور اپنے جمہوری مستقبل کا استقبال کرنے نکلے تھے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی واپسی کے پس منظر میں ایک طویل اور کٹھن سیاسی سفر موجود تھا۔ وہ اس سرزمین کی بیٹی تھیں جس نے ان کے والد، قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو، کو پھانسی کے تختے تک پہنچتے دیکھا تھا۔ وہ اس سیاسی ورثے کی امین تھیں جس میں عوام کی حاکمیت، آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور معاشرے کے محروم طبقات کو اقتدار و اختیار میں شریک کرنے کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ ان کی زندگی محض ایک سیاسی خاندان کی داستان نہیں تھی، بلکہ یہ اس عورت کی جدوجہد بھی تھی جس نے پاکستان جیسے پیچیدہ معاشرے میں سیاسی مزاحمت، قید و بند، جلاوطنی، ذاتی صدمات اور مسلسل خطرات کے باوجود عوامی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے وطن واپسی کا فیصلہ ایسے حالات میں کیا جب خطرات کے خدشات موجود تھے۔ لیکن ان کے نزدیک سیاست محض اقتدار تک رسائی کا وسیلہ نہیں، بلکہ عوام سے کیے گئے عہد کی پاسداری کا نام بھی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ جمہوری سفر کی راہ میں سنگلاخ وادیاں ہیں، کہ اس راستے میں آزمائشیں بھی ہیں اور قربانیوں کا امکان بھی، لیکن ان کا سیاسی عزم انہیں اپنے عوام سے دور رہنے پر آمادہ نہ کر سکا۔

یہی وہ پس منظر تھا جس میں کراچی نے 18 اکتوبر کی شام ایک تاریخ ساز منظر دیکھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا قافلہ شاہراہِ فیصل سے گزرتا ہوا کارساز کے علاقے میں پہنچا تو دو پے در پے دھماکوں نے فضا کو لرزا دیا۔ چند لمحوں میں جشنِ استقبال ماتم میں بدل گیا۔ خوشی کے نعرے چیخوں میں تبدیل ہو گئے، چراغاں کی روشنیوں پر دھوئیں کے سائے چھا گئے، اور وہ شاہراہ جہاں عوام اپنی قائد سے محبت کے اظہار کے لیے جمع تھے، انسانی لہو سے رنگین ہو گئی۔

یہ منظر صرف ان لوگوں کے لیے قیامت خیز نہ تھا جو اس سانحے کی زد میں آئے؛ یہ پورے پاکستان کے لیے ایک اجتماعی صدمہ تھا۔ انسانی جانوں کا ضیاع، زخمیوں کی بے بسی، اپنے پیاروں کو تلاش کرتے خاندانوں کی اذیت اور ہر طرف پھیلی ہوئی افراتفری نے اس رات کو قومی حافظے کا ایک نہ مٹنے والا المیہ بنا دیا۔ مختلف تاریخی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں تقریباً دو سو افراد جاں بحق ہوئے اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار اپنی جگہ، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک پوری زندگی تھی؛ ایک گھر تھا، ایک خاندان تھا، ایک ماں کی دعا تھی، ایک بچے کی امید تھی اور کسی عزیز کی واپسی کا انتظار تھا۔

ذرا ان گھروں کا تصور کیجیے جہاں کوئی باپ اپنی محبوب قائد کے استقبال کے لیے نکلا اور پھر کبھی واپس نہ آیا؛ ان ماؤں کا حال سوچیے جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو خوشی خوشی رخصت کیا تھا مگر شام ڈھلے ان کے حصے میں انتظار، اضطراب اور پھر عمر بھر کا غم آیا؛ ان بچوں کے دکھ کا اندازہ کیجیے جنہیں ایک لمحے میں یہ حقیقت قبول کرنا پڑی کہ ان کے والد اب کبھی گھر کا دروازہ نہیں کھٹکھٹائیں گے۔ انسانی المیے کی اصل وسعت سرکاری اعداد و شمار میں نہیں سماتی۔ اس کا حقیقی حجم ان خالی کرسیوں، ان خاموش گھروں اور ان آنکھوں میں دیکھا جا سکتا ہے جن کے آنسو برسوں بعد بھی خشک نہیں ہوتے۔

سانحۂ کارساز کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ان کی قربانی محض کسی ایک سیاسی جماعت کی داخلی تاریخ کا حصہ نہیں۔ وہ پاکستان کے شہری تھے، اس وطن کے باشندے تھے، اور انہیں اپنی سیاسی وابستگی اور پُرامن اجتماع کے حق کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل تھا۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں شہریوں کی جان، آزادی اور عزت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب عوامی اجتماع کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے تو اس کا مطلب صرف چند افراد کی زندگیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، بلکہ شہریوں کے اس بنیادی اعتماد کو بھی مجروح کیا جاتا ہے جس پر جمہوری معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے سانحۂ کارساز کی یاد اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ اس کے کارکنوں کی بے مثال وابستگی، وفاداری اور سیاسی استقامت کا استعارہ بن چکا ہے۔ ان کارکنوں نے اپنی قائد کے گرد انسانی حصار قائم کیا، خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ایسے حالات میں بھی ثابت قدم رہے جب جان کا تحفظ ایک سنگین سوال بن چکا تھا۔ ان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں محض نعروں، انتخابی نشانوں یا اقتدار کے ایوانوں سے وجود نہیں پاتیں؛ ان کی اصل بنیاد وہ کارکن ہوتے ہیں جو اپنے نظریے پر یقین رکھتے ہیں، اپنی جماعت کے ساتھ وابستگی کو اپنی شناخت کا حصہ بناتے ہیں اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنے عہد سے انحراف نہیں کرتے۔

تاہم شہداء کی قربانیوں کو صرف جذباتی عقیدت کے الفاظ میں سمیٹ دینا ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کی یاد کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کے خوابوں کو سمجھا جائے، ان کے سیاسی عزم کو اس کے تاریخی تناظر میں دیکھا جائے اور ان اقدار کو عملی زندگی میں جگہ دی جائے جن کے لیے وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ اگر ان کی قربانیوں کے بعد بھی معاشرے میں ناانصافی، سیاسی عدم برداشت، محرومی اور شہریوں کے حقوق کی پامالی برقرار رہے تو ہمیں اپنے اجتماعی طرزِ عمل کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے معتبر طریقہ یہ ہے کہ ان کی یاد کو عوامی خدمت، آئینی حکمرانی، سماجی انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ سے وابستہ کیا جائے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد دو الگ واقعات نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی روایت کے تسلسل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو سیاسی عمل میں شریک کرنے، ان کے حقوق کو زبان دینے اور ریاستی نظام میں عوامی نمائندگی کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنے والے بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ان کے دور نے پاکستان کی سیاسی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1973ء کا آئین اسی دور کی ایک اہم تاریخی دستاویز ہے، جس نے وفاقی پارلیمانی نظام کی بنیادوں کو آئینی شکل دی۔

ان کی شہادت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک ایسے سیاسی ورثے کو سنبھالا جس کے ساتھ بے شمار امیدیں، تلخ یادیں اور غیر معمولی ذمہ داریاں وابستہ تھیں۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی، جمہوری عمل کی بحالی کے لیے سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کیا اور دو مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچیں۔ ان کی سیاسی زندگی کامیابیوں اور ناکامیوں، اختلافات اور تنازعات، امیدوں اور آزمائشوں سے عبارت تھی؛ لیکن ان کی تاریخ کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں خواتین کی قیادت اور عوامی نمائندگی کے تصور کو ایک نئی جہت دی۔

سانحۂ کارساز اس طویل جدوجہد کے عین درمیان پیش آیا۔ اس حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں، مگر ان کے ساتھ موجود سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا مظہر تھا کہ سیاسی عمل کو دہشت گردی کے ذریعے روکنے کی کوششیں کس قدر تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ کسی بھی سیاسی رہنما پر حملہ، اس کے حامیوں کو نشانہ بنانا اور شہریوں میں خوف پیدا کرنا جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ سیاسی اختلاف کا جواب تشدد نہیں، دلیل ہے؛ مخالف فکر کا مقابلہ بندوق نہیں، مکالمہ ہے؛ اور اقتدار کی کشمکش کا فیصلہ بارود نہیں، عوام کا آزادانہ حقِ انتخاب ہونا چاہیے۔

لیکن تاریخ نے ابھی اس سانحے کا ایک اور دردناک موڑ دکھانا تھا۔ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک اور حملے میں شہید کر دیا گیا۔ یوں کارساز کے زخم ابھی تازہ تھے کہ قوم کو ایک اور ناقابلِ تلافی صدمے سے گزرنا پڑا۔ چند ماہ کے اندر پاکستان ایک ایسے رہنما سے محروم ہو گیا جس کی سیاسی زندگی اس ملک کے آئینی اور جمہوری مستقبل کے سوالات سے گہری وابستگی رکھتی تھی۔ کارساز سے لیاقت باغ تک کا یہ فاصلہ محض جغرافیائی نہیں تھا؛ یہ ان اندوہناک واقعات کی علامت بن گیا جنہوں نے پاکستانی سیاست کو ہمیشہ کے لیے متاثر کیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری کا نعرہ ’’پاکستان کھپے‘‘ قومی سیاسی تاریخ میں ایک اہم علامت کے طور پر سامنے آیا۔ اس نعرے میں شدید غم کے باوجود ریاست کے تسلسل، قومی وحدت اور پاکستان کے مستقبل سے وابستگی کا اظہار تھا۔ اس وقت جب جذبات کا شدید طوفان موجود تھا، پاکستان کی بقا اور سلامتی پر زور دینا ایک سیاسی پیغام بھی تھا اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی۔ اس سے یہ سبق اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بڑے قومی سانحات کے بعد قیادت کا امتحان صرف غم کا اظہار نہیں، بلکہ معاشرے کو انتشار سے بچانے، قانون کی بالادستی برقرار رکھنے اور سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی استحکام کے لیے راستہ تلاش کرنے میں بھی ہوتا ہے۔

آج پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کی نئی نسل کے سامنے یہ تاریخی ذمہ داری موجود ہے کہ وہ اپنے سیاسی ورثے کو محض یادگار تقریبات اور رسمی بیانات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھائیں۔ ہر عہد اپنے نئے سوالات لے کر آتا ہے۔ آج کا پاکستان معاشی مشکلات، بے روزگاری، سماجی ناہمواری، دہشت گردی، ادارہ جاتی تناؤ اور سیاسی عدم اعتماد جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دیں، پارلیمان کو مؤثر بنائیں، اختلافِ رائے کا احترام کریں اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے سیاسی مسائل کا حل تلاش کریں۔

یہاں ایک اہم سوال بھی ہماری توجہ کا مستحق ہے کہ کیا ہم نے سانحۂ کارساز سے وہ اسباق حاصل کیے جن کی ضرورت ایک جمہوری معاشرے کو ہوتی ہے؟ کیا ہم نے عوامی اجتماعات کی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف ادارہ جاتی تیاری کو اپنی قومی ترجیحات میں وہ مقام دیا جس کا تقاضا اس سانحے نے کیا تھا؟ کیا ہم نے اس واقعے کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے انصاف اور جواب دہی کے تقاضوں کو مستقل طور پر زندہ رکھا؟

یہ سوالات کسی ایک سیاسی جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے تک محدود نہیں۔ یہ ریاست اور معاشرے کے اجتماعی ضمیر سے متعلق سوالات ہیں۔ ان کے جواب تلاش کرنے کے لیے جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ تاریخی دیانت، شفافیت اور حقائق پر مبنی جائزے کی بھی ضرورت ہے۔

سانحۂ کارساز کی تحقیقات اور ذمہ داروں کی شناخت کا سوال اس تناظر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برسوں گزر جانے کے باوجود اس واقعے کے منصوبہ سازوں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کے حوالے سے پیش رفت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں تحقیقاتی کمیٹیوں اور اقدامات کی خبریں سامنے آتی رہیں، لیکن متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کا سوال پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ اکتوبر 2022ء میں روزنامہ ڈان کی ایک تفصیلی رپورٹ نے بھی اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ سانحے کے پندرہ برس بعد متاثرہ خاندان اب تک انصاف کے منتظر تھے۔

یہ امر ہمارے اجتماعی نظامِ انصاف کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ احتساب ہونا چاہیے۔ کسی بھی سانحے کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی محض حکومت کی سیاسی ترجیح نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے۔ تحقیقات شفاف ہوں، شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے، متعلقہ ادارے اپنے فرائض انجام دیں اور متاثرین کے خاندانوں کو پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ کسی فرد یا گروہ کو پہلے سے مجرم قرار دے دیا جائے؛ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شواہد کی بنیاد پر حقیقت سامنے لائی جائے اور قانون کے مطابق جواب دہی یقینی بنائی جائے۔

جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ وہ کسی کو احتساب سے بالاتر نہیں سمجھتی۔ حکومت ہو یا حزبِ اختلاف، سیاسی جماعت ہو یا ریاستی ادارہ، ہر فریق آئین اور قانون کے تابع ہے۔ سانحۂ کارساز جیسے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اسی لیے اہم ہیں کہ ان سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ تاریخی یادداشت اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب وہ ہمیں حقائق سے فرار کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرے۔

اس سانحے کا ایک اور گہرا سبق سیاسی رواداری اور انسانی احترام سے متعلق ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے یا حکومت بنانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا تہذیبی اور اخلاقی نظام ہے جس میں مخالف کی آواز کو بھی سننے کی گنجائش ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف کو غداری، دشمنی یا ذاتی انتقام میں تبدیل کر دینا جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ جب سیاست میں مکالمے کی جگہ نفرت لے لے، جب اختلاف کی جگہ تحقیر اور دلیل کی جگہ دھمکی آ جائے تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔

پاکستان ایک وفاقی، کثیرالثقافتی اور متنوع معاشرہ ہے۔ اس کے مختلف صوبوں، زبانوں، قومیتی شناختوں اور سیاسی رجحانات کے حامل شہریوں کو ایک مشترکہ آئینی نظم کے تحت زندگی گزارنی ہے۔ اس تنوع کو کمزوری سمجھنے کے بجائے اسے جمہوری قوت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ہر صوبے کے عوام کو اپنے حقوق، وسائل، زبان، ثقافت اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔ وفاق کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کی تمام وفاقی اکائیوں کے عوام خود کو ریاست کے برابر کے شہری محسوس کریں اور ان کے جائز آئینی حقوق کا احترام کیا جائے۔

سانحۂ کارساز کی یاد ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات سے بلند ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت، صوبے یا طبقے کا مسئلہ نہیں؛ یہ پورے معاشرے کے امن، انسانی زندگی اور مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، انٹیلی جنس تعاون، عدالتی نظام کی مؤثریت، شہریوں کا اعتماد اور سیاسی قیادت کی سنجیدگی ضروری ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کی یاد کو سیاسی نعرے تک محدود کرنے کے بجائے اسے قومی پالیسی، شہری تحفظ اور انصاف کے نظام کی بہتری سے جوڑنا چاہیے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی بھی عوامی اجتماع کے تحفظ کو محض انتظامی کارروائی نہ سمجھا جائے۔ شہریوں کا پُرامن اجتماع، اظہارِ رائے اور سیاسی وابستگی بنیادی حقوق ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق کے استعمال کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرے۔ سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اجتماعات کی منصوبہ بندی، رضاکاروں کی تربیت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے شہریوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ سانحۂ کارساز کے تجربے کو سنجیدگی سے سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم انسانی جان کے تحفظ کو ہر سیاسی اور انتظامی ترجیح پر مقدم رکھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ میں کارکنوں کی قربانیاں ہمیشہ ایک اہم مقام رکھتی رہی ہیں۔ لیکن کارکنوں سے حقیقی وفا کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کی زندگیوں، ان کے خاندانوں اور ان کے معاشی و سماجی مسائل کو اہمیت دی جائے۔ شہداء کے بچوں کی تعلیم، ان کے خاندانوں کی فلاح، زخمیوں کی دیکھ بھال اور متاثرین کے وقار کا تحفظ کسی بھی سیاسی یادگاری روایت کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔ قربانیوں کی یاد صرف پھول چڑھانے سے زندہ نہیں رہتی؛ وہ اس وقت زندہ رہتی ہے جب ان قربانیوں سے وابستہ انسانوں کو فراموش نہ کیا جائے۔

ہر سال 18 اکتوبر ہمیں اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اس کا مقصد محض ماضی میں ٹھہر جانا نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ کا اصل فائدہ یہ ہے کہ وہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اگر ہم سانحۂ کارساز کو صرف ایک غم انگیز واقعے کے طور پر یاد کریں گے تو اس کی معنویت محدود رہ جائے گی؛ لیکن اگر ہم اسے جمہوری حقوق، انسانی وقار، ریاستی ذمہ داری، قانون کی حکمرانی اور سیاسی رواداری کے تناظر میں دیکھیں گے تو اس کی یاد ایک قومی سبق بن سکتی ہے۔

آج ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کوئی عطیہ نہیں جسے ہمیشہ کے لیے حاصل کر لیا جائے؛ یہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے شعور، برداشت، مکالمہ، قانون کی پاسداری اور شہری شرکت ضروری ہیں۔ نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے معاشرے کی فکری زندگی کا حصہ ہے، اور کسی سیاسی نظریے سے اختلاف رکھنے والے انسان کے حقوق کا احترام بھی جمہوری اخلاقیات کا لازمی جزو ہے۔ کسی بھی نظریے کی قوت اس کے مخالف کو خاموش کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی دلیل، اپنے کردار اور اپنی عملی کارکردگی سے اعتماد پیدا کرنے میں ہوتی ہے۔

اسی طرح جمہوریت کو صرف سیاسی قیادتوں کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا حقیقی معیار عام شہری کی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے: کیا اسے انصاف ملتا ہے؟ کیا اس کے بچے کو تعلیم کے مواقع حاصل ہیں؟ کیا اسے روزگار، علاج اور بنیادی سہولتیں میسر ہیں؟ کیا وہ خوف کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے؟ کیا ریاستی ادارے اس کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں؟ اگر ان سوالات کے جوابات مثبت ہوں تو جمہوریت عوام کی زندگی میں ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے؛ بصورتِ دیگر اس کی معنویت محض آئینی اور سیاسی اصطلاحات تک محدود رہ جاتی ہے۔

شہداءِ کارساز کے نام پر یہی عہد ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ جمہوریت کو عوام کی روزمرہ زندگی سے مربوط کیا جائے۔ عوامی خدمت کو سیاسی ترجیح بنایا جائے، محروم طبقات کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں، خواتین اور نوجوانوں کی شرکت کو فروغ دیا جائے، وفاقی اکائیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اداروں کے مابین تعلقات کو آئینی حدود کے اندر رکھا جائے۔ جمہوریت کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ حکومتیں قائم ہوں، بلکہ اس میں ہے کہ شہریوں کا اعتماد مضبوط ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ریاست اپنے تمام شہریوں کے ساتھ انصاف کرے۔

سانحۂ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہمیں ان خاندانوں کی خاموشی بھی سننی چاہیے جو برسوں سے اپنے پیاروں کی جدائی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ بعض غم وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتے؛ وہ انسان کی زندگی کے معمولات میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کوئی تہوار ان کی کمی پوری نہیں کر سکتا، کوئی تقریب ان کی جگہ نہیں لے سکتی، اور کوئی تعزیتی جملہ اس خلا کو مکمل طور پر نہیں بھر سکتا جو ایک عزیز کی جدائی سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے دکھ کو سیاسی موسموں کے ساتھ وابستہ نہ کریں، بلکہ انہیں مستقل احترام، ہمدردی اور انصاف کا حق دار سمجھیں۔

18 اکتوبر ہمیں اس حقیقت کا سامنا بھی کراتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ صرف حکمرانوں، حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی تاریخ نہیں؛ یہ عام انسانوں کی قربانیوں، امیدوں، جدوجہد اور محرومیوں کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ میں وہ کارکن بھی شامل ہیں جن کے نام شاید قومی کتابوں میں درج نہ ہوں، مگر جنہوں نے اپنے عمل سے سیاسی زندگی کو معنی دیے۔ وہ مائیں بھی اس تاریخ کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو کھویا، وہ بچے بھی جنہوں نے اپنے والدین کی شفقت سے محرومی دیکھی، اور وہ خاندان بھی جنہوں نے اپنے دکھ کو خاموشی سے برداشت کرتے ہوئے زندگی کا سفر جاری رکھا۔

ہم ان شہداء کی یاد کو اس وقت تک مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتے جب تک ان کے ناموں اور قربانیوں کو انسانی احترام کے ساتھ محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کی داستانیں نئی نسل تک پہنچائی جائیں، تاریخی ریکارڈ کی حفاظت کی جائے، سانحے کے حقائق پر تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو اور متاثرہ خاندانوں کے تجربات کو اجتماعی یادداشت کا حصہ بنایا جائے۔ کسی قوم کی تہذیبی پختگی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقتولین، اپنے مظلوموں اور اپنے شہداء کو کس طرح یاد کرتی ہے۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی میراث کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ان کے دور کے پیچیدہ سیاسی حالات، ان کی کامیابیوں اور ان پر ہونے والی تنقید کو تاریخی دیانت کے ساتھ سمجھیں۔ کسی بھی رہنما کی میراث کو صرف عقیدت کے پیمانے سے نہیں، بلکہ اس کے سیاسی کردار، فیصلوں، عوامی اثرات اور تاریخی حالات کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی سیاسی جماعت کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی سے قوت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں کا جائزہ بھی لے اور مستقبل کے لیے بہتر راستے اختیار کرے۔ تاریخ سے وفا کا مطلب اس سے سوال کرنے سے گریز نہیں، بلکہ اس کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔

سانحۂ کارساز کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جمہوریت کی حفاظت صرف ایک سیاسی جماعت کا کام نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی جماعتیں اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن شہریوں، صحافیوں، اساتذہ، وکلا، دانش وروں، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کی شرکت کے بغیر جمہوری ثقافت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں سوال کرنے کی آزادی ہو، جہاں اختلاف کو برداشت کیا جائے، جہاں طاقت کو قانون کا پابند رکھا جائے اور جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، وہی معاشرہ دہشت گردی اور سیاسی تشدد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت کا سفر ہمیشہ سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتا۔ اس میں تعطل بھی آتے ہیں، بحران بھی پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں جو پوری قوم کو مایوسی سے دوچار کر دیتے ہیں۔ لیکن جمہوری معاشروں کی اصل قوت ان کی یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بحرانوں سے سبق سیکھیں، اپنے اداروں کو بہتر بنائیں، اپنے اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل کریں اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مسلسل کوشش کریں۔ سانحۂ کارساز کی یاد ہمیں اسی اجتماعی بلوغت کی طرف بلاتی ہے۔

ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ کسی شہری کا خون بے معنی نہ ہونے پائے، کسی متاثرہ خاندان کی فریاد کو بے اعتناعی کی نذر نہ ہونے دیا جائے اور کسی قومی سانحے کو وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہ کر دیا جائے۔ انصاف، احتساب اور انسانی احترام وہ بنیادی اقدار ہیں جن کے بغیر جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے۔ اسی لیے سانحۂ کارساز کے ذمہ داروں کی شناخت اور قانون کے مطابق جواب دہی کا مطالبہ محض ماضی کا سوال نہیں، بلکہ مستقبل کے تحفظ کا تقاضا بھی ہے۔

آج جب ہم کارساز کے شہداء کو یاد کرتے ہیں تو ہماری نگاہوں کے سامنے صرف وہ تاریک رات نہیں آتی، بلکہ وہ عوامی سمندر بھی آتا ہے جو اپنی قائد کے استقبال کے لیے نکلا تھا۔ ہمیں ان چہروں کی یاد آتی ہے جن پر امید تھی، ان قدموں کا خیال آتا ہے جو جمہوری حق کے اظہار کے لیے اٹھے تھے، اور ان خاندانوں کا دکھ محسوس ہوتا ہے جن کی زندگیاں اس سانحے نے بدل کر رکھ دیں۔ اس یاد میں غم بھی ہے، احترام بھی، سوال بھی اور ایک ایسا عہد بھی جو آنے والی نسلوں تک منتقل ہونا چاہیے۔

سانحۂ کارساز کے شہداء کی قربانیاں ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ عوام کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے مقابلے میں جمہوری شعور، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ یہ کوئی دعویٰ نہیں کہ تاریخ کے تمام مسائل محض عزم سے حل ہو جاتے ہیں؛ تاریخ کا تقاضا یہ ہے کہ عزم کو عمل، اصول کو پالیسی اور یاد کو ذمہ داری میں تبدیل کیا جائے۔ شہداء کے نام پر یہی سب سے بڑی خدمت ہے کہ پاکستان کو ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کی جائے جہاں شہریوں کو خوف کے بجائے تحفظ، محرومی کے بجائے مواقع، ناانصافی کے بجائے قانون اور نفرت کے بجائے مکالمہ میسر ہو۔

18 اکتوبر کی یاد ہمیں ماضی کے ماتم میں اسیر رہنے کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بیدار کرتی ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ سیاسی وابستگی کو انسانی جان سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا جا سکتا، اقتدار کو قانون سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا اور اختلاف کو تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ جمہوریت کا حقیقی احترام اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے مخالف کے حقِ زندگی، حقِ رائے اور حقِ سیاسی شرکت کو بھی اسی طرح تسلیم کریں جس طرح اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

آئیے، شہداءِ کارساز کی یاد کو ایک زندہ عہد میں تبدیل کریں۔ ایسا عہد جس میں انسانی جان کا احترام اولین اصول ہو، آئین کی بالادستی ناقابلِ سمجھوتہ ہو، انصاف کی فراہمی ریاستی ذمہ داری سمجھی جائے، سیاسی اختلاف کو جمہوری حسن تسلیم کیا جائے اور عوام کی فلاح و بہبود کو سیاست کا اصل مقصد بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ان خاندانوں کے دکھ کا احترام کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، اور ان خوابوں کی حفاظت کر سکتے ہیں جن کے ساتھ ہزاروں شہری 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی کی سڑکوں پر نکلے تھے۔

شہداءِ کارساز کو ہمارا سلام؛ ان ماؤں کو سلام جنہوں نے اپنے جگر گوشے کھوئے؛ ان بچوں کو سلام جنہوں نے کم عمری میں جدائی کا دکھ سہا؛ ان کارکنوں کو سلام جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں؛ اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت، جن کی وطن واپسی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔

کارساز کی سرزمین پر بہنے والا لہو ہماری تاریخ کی امانت ہے۔ اس امانت کا تقاضا ہے کہ ہم اسے نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیے نہیں، بلکہ انصاف، رواداری، انسانی وقار اور جمہوری شعور کے چراغ روشن کرنے کے لیے یاد رکھیں۔ شہداء کی یاد کا اصل مفہوم یہی ہے کہ ان کے نام پر ایک ایسا پاکستان تعمیر کرنے کی کوشش جاری رہے جہاں اختلافِ رائے جرم نہ ہو، سیاسی وابستگی جان لیوا خطرہ نہ بنے، قانون طاقت کے سامنے بے بس نہ ہو اور کسی شہری کو اپنے جمہوری حق کے اظہار کی قیمت اپنی جان سے ادا نہ کرنی پڑے, کیونکہ قومیں اپنے شہداء کو صرف یاد نہیں کرتیں؛ وہ ان کی قربانیوں سے اپنے مستقبل کی سمت بھی متعین کرتی ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*