کراچی میں بھتہ خوری، لینڈ مافیا اور کرپٹ سسٹم نے نظام مفلوج کر دیا: چیئرمین آباد برس پڑے

بھتہ خوری، لینڈ مافیا اور کرپٹ سسٹم کے باعث شہریوں،اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے
بلڈرز اور تاجروں کو بلاخوف کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرناحکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری ہے
سپریم کورٹ کے احکام کے باوجود 26 سڑکوں کی کمرشلائزیشن نہ ہونے پر تشویش ہے،ڈپلومیٹک بزنس کلب کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایسوسی ایشن آف بلڈز اینڈ ڈیولپر(آباد)کے چیئرمین محمد حنیف گوہر نے کہا کہ سندھ میں کرپٹ سسٹم نے پورے نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، کراچی میں بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضوں کے مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں، سپریم کورٹ کے احکام کے باوجود 26 سڑکوں کی کمرشلائزیشن نہ ہونے پر تشویش ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈپلومیٹک بزنس کلب کے زیر اہتمام چیئرمین آباد محمد حنیف گوہر اور دیگر عہدیداران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وائس چیئرمین خورشید عالم،چیئرمین سدرن ریجن معیظ زیدی، سابق چیئرمین آباد محمد حسن بخشی،سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین ایس آر احمد اویس تھانوی جبکہ چیئرمین ڈپلومیٹک بزنس کلب محمد عمر شاہ،پیٹرن ان چیف فیاض الیاس اور ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔حنیف گوہر نے مزیدکہا کہ بھتہ خوری، لینڈ مافیا اور کرپٹ سسٹم کے باعث شہریوں،اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔، جن کے حل کے لیے مؤثر اقدام اٹھانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلڈرز اور تاجروں کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں بلاخوف کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرناحکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری ہے۔چیئرمین آباد نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اب تک کسی بلڈر کا پلاٹ کمرشل نہیں ہوسکا، جو تشویش ناک صورت حال ہے۔ انھوں نے کمرشلائزیشن سے متعلق عدالتی احکام پر عمل درآمد نہ ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق مسائل حل کیے جاسکیں۔انھوں نے مزید کہا کہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے جائز مسائل کے حل کے لیے آباد اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ اداروں میں رشوت کے بغیر کمرشلائزیشن کا عمل شروع کرانے کے لیے بھرپور اقدام کیے جائیں، تاکہ بلڈرز کو اپنے قانونی کاموں کی انجام دہی میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انھوں نے کہا کہ آباد نے کرپٹ سسٹم کے خلاف کبھی خاموشی اختیار نہیں کی اور ہمیشہ بلڈرز اور ڈیولپرزکے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کے مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں چیئرمین آباد محمد حنیف گوہر نے سانحہ پشاور دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے سے 6 بچیوں،20 بچوں اور 2 خواتین اساتذہ کے جاں بحق ہونے پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار اور زخمی بچوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا، اورمتاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*