
تحریر: عائشہ رانی
کراچی کے شہری سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، سیوریج کے پانی میں ڈوبی گلیاں، اور پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، یہ سب اس شہر کی تلخ حقیقتیں ہیں۔ انہی میں ایک تازہ مثال ریڈ لائن منصوبہ ہے، جو کراچی کی مصروف ترین شاہراہ، یونیورسٹی روڈ کو، برسوں سے عوام کے لیے درد سر بنائے ہوئے ہے۔ ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کا آغاز 2021ء میں ہوا تھا، اور اسے 30 جون 2024ء تک مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر افسوس کہ یہ آج، اکتوبر 2026ء میں بھی نامکمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلا ٹھیکہ منسوخ ہوئے بھی چھ ماہ گزر چکے ہیں اور کام ابھی تک شروع نہیں ہو سکا، البتہ توقع ہے کہ مزید ایک ماہ بعد آغاز ہو جائے گا، تاہم شہری ایسی "توقعات” پہلے بھی کئی بار سن چکے ہیں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے یہی ایک منصوبہ کافی ہے۔ جو کام دو سال پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تھا، اس کی حتمی تکمیل کی تاریخ تک متعین نہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کو بارہا مداخلت کرنا پڑی، مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔ ایک ایسا شہر جو ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے، اس کی کلیدی شاہراہ پانچ سال سے زیرِ التوا ہے، اور ذمہ دار کون ہے، اس کا جواب تاحال نہیں ملا۔ شہری مسلسل اذیت کا شکار ہیں۔ ٹوٹی سڑکیں روزانہ کا سفر طویل بنا دیتی ہیں، سیوریج کا پانی بیماریوں کو جنم دیتا ہے، اور صاف پانی کی عدم فراہمی اس پر مستزاد ہے۔ عوام فریاد کریں تو کس سے؟ بلدیاتی ادارے، صوبائی حکومت سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، جبکہ عام شہری اسی چکر میں پستا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی سہولیات سے محروم کراچی کے عوام کا ایک بڑا حلقہ مسلسل یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ کراچی کو الگ انتظامی حیثیت دی جائے تاکہ مسائل بروقت حل ہو سکیں۔ واضح رہے کہ اس کا مقصد سندھ کا جغرافیہ بدلنا یا زمین تقسیم کرنا نہیں، بلکہ محض ایک انتظامی ترتیب ہے، جس کے تحت کراچی جیسے وسیع و گنجان آباد شہر کو اتنا اختیار اور وسائل مل سکیں کہ وہ اپنے مسائل خود، بروقت حل کر سکے۔ ریڈ لائن منصوبہ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اگر فیصلہ سازی کا اختیار مقامی سطح پر ہوتا تو شاید پانچ سال کا یہ عذاب اتنا طویل نہ ہوتا۔ کراچی کو مضبوط انتظامی یونٹ کی حیثیت دینا دراصل آئین کے آرٹیکل 140A کے اسی اصول کا تسلسل ہے: اختیار اور وسائل وہاں ہونے چاہئیں جہاں مسئلہ ہے، نہ کہ کسی دور بیٹھے دفتر میں۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، کراچی کے شہری اسی طرح ٹوٹی سڑکوں، سیوریج کے پانی اور نامکمل منصوبوں کے درمیان اپنی باری کا انتظار کرتے رہیں گے، اور سوال وہیں کھڑا رہے گا: اس شہر کی بدحالی کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
