
سندھ کے معاملے میں ایک ایسی بحث موجود ہے جس سے ہر کوئی واقف ہے، لیکن بہت کم لوگ اس پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ سندھ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے اور اہم صوبوں میں سے ایک ہے، جہاں لوگ بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی مباحث میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک ہی حکومت کے تحت اتنی بڑی آبادی کا انتظام سنبھالنا ترقی کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ کراچی کی مصروف سڑکوں سے لے کر تھرپارکر کے دیہات تک، شہری نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرتے ہیں بلکہ اپنی آواز بلند کرنے کے لیے بھی جدوجہد کرتے ہیں۔ سندھ کے ہر علاقے میں مؤثر انتظامی حکمرانی کی ضرورت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ اگر سندھ کے عوام یہ سوال اٹھائیں کہ کیا چھوٹے صوبے یا انتظامی اکائیاں حکومت کو ان کے قریب لا سکتی ہیں اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہیں یا نہیں، تو یہ کوئی غلط سوال نہیں ہوگا۔ حکمرانی کے نظام کو سمجھنے کے لیے عوام کو اعداد و شمار کے بارے میں کچھ معلومات ہونی چاہییں۔ اگر ہم 2023 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار کی بات کریں تو یہ حساب لگایا گیا ہے کہ آبادی میں سالانہ 2.57 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ پچپن لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ہے، جو 30 اضلاع اور سات انتظامی ڈویژنوں پر مشتمل ہے، جن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور بنبھور شامل ہیں۔
سندھ میں چھوٹے انتظامی صوبوں کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نسلی تفاخر اور قوم پرستانہ شناخت ہے۔ صوبے کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کے کسی بھی ممکنہ خیال کو نسلی شناخت پر حملے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ یہ گہرا خوف موجود ہے کہ سندھ کی تقسیم سے بعض آبادیوں کی حیثیت شہری علاقوں میں سیاسی اقلیتوں کی ہو سکتی ہے۔ بحث اس بات تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ سندھ ایک صوبہ برقرار رہے یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ جب انتظامیہ عوام کو ان کی ضروری سہولتیں مناسب طریقے سے فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو عوام کے سوالات کا جواب کون دیتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں بہتری کی طرف ایک ممکنہ راستہ فراہم کر سکتی ہیں اور مضبوط منتخب حکومتیں ایک دوسرا راستہ پیش کر سکتی ہیں، لیکن جو بھی نظام اقتدار میں آئے، اسے اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ آیا وہ سندھ کے عوام کی زندگی بہتر بنا رہا ہے یا نہیں۔ سیاسی جماعتیں اس سادہ حقیقت سے اتفاق کرتی ہیں کہ چھوٹی اکائیاں مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں، کیونکہ ان کی نگرانی آسان ہو جائے گی۔ اسکولوں اور اسپتالوں کی بہتر نگرانی ہوگی، پولیس زیادہ تیزی سے کارروائی کرے گی اور فنڈز جواب دہی کے ساتھ خرچ کیے جائیں گے۔ سکھر اور لاڑکانہ کے ڈویژنوں میں ایک بڑا مسئلہ موجود ہے، کیونکہ دیہاتیوں کو بنیادی سہولتوں تک پہنچنے یا اپنے انتظامی مسائل حل کروانے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ کشمور جیسے اضلاع میں شرحِ خواندگی 45.5 فیصد ہے، جبکہ قمبر شہدادکوٹ میں شرحِ خواندگی 50 فیصد ہے اور یہ علاقے بنیادی طبی سہولتوں کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں۔ ان خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور انہیں ایک دوسرے کے مخالف مقاصد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
سندھ وسائل، زبان اور ثقافتی شناخت سے مالامال ایک خطہ ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر صوبے کو تقسیم کیا گیا تو اس کی شناخت کمزور پڑ جائے گی یا ختم ہو جائے گی، یا وسائل اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے تنازعات پیدا ہوں گے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کے مطابق کسی بھی صوبے کی حدود کو اس مخصوص صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ اسمبلی میں سیاسی غلبہ اس انداز میں موجود ہے کہ انتخابی حلقے علاقائی ورثے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اس قسم کے بل کی منظوری تقریباً ناممکن ہے۔ صوبہ سندھ پانچ ہزار سال قدیم تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ صوبے کو کراچی صوبے جیسی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی کسی بھی تجویز کو نسلی شناخت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
سندھ کی سیاسی قیادت نے خاموشی سے چھوٹی اکائیوں کی ضرورت کو ثابت کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی باقاعدگی سے نئی انتظامی اکائیاں اور ڈویژن تشکیل دیتی رہی ہے۔ حکمرانی میں پیدا ہونے والا تعطل اس انتظامی حقیقت کے گرد گھومتا ہے کہ چھوٹی اکائیاں خدمات کی تیز تر فراہمی اور مقامی سطح پر زیادہ اختیار کا باعث بنیں گی۔ آرٹیکل 140-اے کے تحت صوبائی حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی نمائندوں کے پاس عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے بامعنی ذمہ داریاں ہونی چاہییں۔ اس کے باوجود یہ بحث جاری ہے کہ مقامی اداروں کو کتنے اختیارات، کتنی رقم اور کتنی خودمختاری ملنی چاہیے۔ سال 2026 میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے سندھ کے بلدیاتی قانون کو چیلنج کیا، کیونکہ ان کا مؤقف تھا کہ نئے اضلاع یا صوبے بنانے سے منتخب ادارے کمزور ہو سکتے ہیں۔ بہت سے سندھیوں کے لیے سندھ محض ایک انتظامی علاقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی تاریخ، زبان اور ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ سندھی زبان، اجرک اور ثقافتی ورثہ سندھیوں کے دلوں میں بہت اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کی تقسیم کی تجاویز اکثر شدید جذباتی اور سیاسی ردِعمل پیدا کرتی ہیں، لیکن سندھ کے مسائل محض جذباتی وابستگی سے حل نہیں ہو سکتے، بلکہ بہتر حکمرانی اور عام لوگوں تک معیاری سہولتوں کی فراہمی سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔
Name: Erzah Ather
