
خالد مقبول صدیقی، انیس قائم خانی و مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار سے وابستہ دھڑوں کی سرگرمیاں الگ الگ جاری رہنے کا دعویٰ؛ سینئر کارکنوں کے اجلاس میں ڈسٹرکٹ آرگنائزر ظفر صدیقی کی قیادت پر سوالات اٹھائے گئے، تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور ناراض کارکنوں کو منانے کا مطالبہ
خصوصی رپورٹ، راحت کاظمی
حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اندرونی اختلافات ختم نہ ہونے کے باعث تنظیمی سرگرمیوں اور کارکنوں کے درمیان رابطوں کے حوالے سے تحفظات سامنے آنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے مختلف دھڑوں سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں کی سرگرمیاں الگ الگ جاری ہیں، جبکہ تنظیمی امور پر اختلافات کے باعث حیدرآباد میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو درپیش چیلنجز پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر اور سنجیدہ کارکنوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ آرگنائزر ظفر صدیقی کی قیادت اور تنظیمی کارکردگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں شریک بعض کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ تنظیمی صورتحال کے باعث کارکنوں کے درمیان رابطوں میں کمی آئی ہے اور پارٹی کو ماضی کی طرح منظم کرنے کے لیے قیادت اور تنظیمی حکمت عملی پر نظرثانی ضروری ہے۔
اجلاس میں مبینہ طور پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ حیدرآباد جیسے اہم سیاسی شہر میں تنظیمی ذمہ داریوں کے لیے سینئر، تجربہ کار اور سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد کو آگے کیوں نہیں لایا جا رہا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ تنظیمی عہدوں پر تقرریوں میں سیاسی تجربے، کارکنوں سے رابطے اور عوامی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ تنظیم کے اندر موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے۔
سینئر قیادت کو ذمہ داریاں دینے کا مطالبہ
اجلاس میں بعض کارکنوں کی جانب سے ظفر صدیقی کے تنظیمی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ حیدرآباد میں پارٹی کو فعال اور منظم رکھنے کے لیے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو کارکنوں کو ساتھ لے کر چل سکے اور مختلف دھڑوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے۔ شرکاء کے مطابق سینئر سیاسی کارکنوں کو اہم ذمہ داریاں سونپنے سے تنظیمی اختلافات کم کرنے اور کارکنوں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ظفر صدیقی کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بھی ان کی تنظیمی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھائے گئے۔ بعض شرکاء نے الزام عائد کیا کہ ان کی طویل عرصے سے تنظیمی عہدے پر موجودگی کے باوجود کارکنوں کو مطلوبہ سطح پر متحرک نہیں کیا جا سکا۔ تاہم ان الزامات اور اعتراضات پر ظفر صدیقی کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ معاملے کے تمام پہلو واضح ہو سکیں۔
ماضی کا سیاسی قلعہ، ووٹرز کی مایوسی کے خدشات
اجلاس میں حیدرآباد کے سیاسی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ شہر طویل عرصے تک متحدہ قومی موومنٹ کا اہم سیاسی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن تنظیمی اختلافات، کارکنوں کے تحفظات اور عوامی مسائل کے حل میں مبینہ رکاوٹوں کے باعث پارٹی کے حامیوں میں مایوسی پیدا ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
شرکاء نے دعویٰ کیا کہ متعدد ووٹرز اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندوں سے رابطہ کرتے ہیں، تاہم انہیں مطلوبہ تعاون نہیں ملتا۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی اور اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے عوامی مسائل کے حل اور کارکنوں سے رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
کارکنوں کا کہنا تھا کہ اگر منتخب نمائندوں اور تنظیمی عہدیداروں کے درمیان رابطوں کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تو شہریوں کے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے بہتر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق عوامی رابطوں میں بہتری اور کارکنوں کی شکایات کا ازالہ تنظیمی اعتماد کی بحالی کے لیے اہم ہے۔
مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات بڑا چیلنج
ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مختلف رہنماؤں اور گروپوں سے وابستہ سرگرمیوں کے باعث حیدرآباد میں تنظیمی ہم آہنگی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ خالد مقبول صدیقی، انیس قائم خانی و مصطفیٰ کمال سے وابستہ حلقوں اور فاروق ستار کے گروپ کی سرگرمیوں کو الگ الگ قرار دیتے ہوئے کارکنوں نے تنظیمی سطح پر رابطوں اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اختلافات کے خاتمے کے لیے محض عہدوں میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی بلکہ کارکنوں کو اعتماد میں لینے، سینئر رہنماؤں سے مشاورت کرنے اور تنظیمی فیصلوں میں شفافیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ شرکاء کے مطابق ناراض کارکنوں کو دوبارہ تنظیمی سرگرمیوں میں شامل کرنا اور ان کی شکایات سننا بھی ناگزیر ہے۔
قیادت سے تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کا مطالبہ
اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کی مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ حیدرآباد کی تنظیمی صورتحال کا جائزہ لے کر تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں سینئر اور تجربہ کار سیاسی کارکنوں کو اہم ذمہ داریاں دینے، کارکنوں تک تنظیمی رسائی بڑھانے، ناراض ساتھیوں کو منانے اور ووٹرز کے ساتھ رابطوں کو بہتر بنانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ موجودہ تنظیمی قیادت کے تحت کام کرنے کے حوالے سے اپنے تحفظات برقرار رکھیں گے، جب تک ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی قیادت کارکنوں کی شکایات سنے اور حیدرآباد میں تنظیمی استحکام کے لیے مشاورت کے ذریعے قابل قبول حل تلاش کرے۔
سیاسی حلقوں میں اس صورتحال کو حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے تنظیمی مستقبل اور کارکنوں کے اعتماد کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اجلاس کی تفصیلات، شرکاء کی تعداد، مطالبات اور متعلقہ رہنماؤں کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ ظفر صدیقی اور پارٹی کی مرکزی قیادت کا مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید وضاحت ہو سکے گی۔
