حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبوں پر میئر اور متحدہ قومی موومنٹ آمنے سامنے، فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ

حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبوں پر میئر اور متحدہ قومی موومنٹ آمنے سامنے، فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ

(خصوصی رپورٹ | راحت کاظمی)

حیدرآباد میں وفاقی فنڈز سے جاری ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر میئر حیدرآباد اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث اہم منصوبوں پر کام شروع نہ ہونے اور مختص فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میئر حیدرآباد کی جانب سے وفاقی فنڈز کے تحت ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں، جبکہ ایک ترقیاتی منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بھی معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق حیدرآباد کے لیے منظور کیے گئے دو فلائی اوورز کے منصوبوں کے ٹینڈرز جاری ہونے کے باوجود تاحال تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا، جس سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان منصوبوں میں تاخیر کے باعث ٹریفک کے مسائل سے دوچار شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔دوسری جانب میئر حیدرآباد کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ وفاقی ادارے پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کو حیدرآباد میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر کام شروع کرنے سے قبل بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد سے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ اس مؤقف کے تحت بلدیاتی ادارے کی منظوری کے بغیر ترقیاتی سرگرمیاں آگے بڑھانے پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں کمشنر ہاؤس حیدرآباد میں اس معاملے پر ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ارکان قومی اسمبلی وسیم حسین، عبدالعلیم خان زادہ، طارق شاہ جاموٹ۔ میئر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی فنڈز سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی ختم کرنے اور معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں یہ طے پانے کی اطلاعات ہیں کہ وفاقی ادارہ PIDCL ترقیاتی کام شروع کرنے سے قبل بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد سے این او سی حاصل کرے گا، جس کے بعد متعلقہ منصوبوں پر پیش رفت کی جا سکے گی۔ اس سلسلے میں مزید اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ اداروں کے درمیان موجود اختلافات دور کرکے ترقیاتی سرگرمیوں کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔
تاہم PIDCL کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر تاحال مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کی جانب سے متعلقہ منصوبوں کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کے باعث کام آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ دوسری جانب ٹھیکیدار کے خلاف درج ایف آئی آر کا معاملہ بھی حل طلب بتایا جاتا ہے۔
شہری حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اداروں کے درمیان اختلافات اور انتظامی رکاوٹیں فوری طور پر دور نہ کی گئیں تو ترقیاتی منصوبوں میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے اور مختص وفاقی فنڈز لیپس ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایسی صورت میں شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مختص وسائل کے بروقت استعمال پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ادھر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال خاموشی اختیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ این او سی کے اجرا اور ایف آئی آر کے خاتمے کے حوالے سے بھی کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔اہم سوال یہ ہے کہ وفاقی فنڈز سے منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، اور شہریوں کے نام پر مختص فنڈز کو لیپس ہونے سے بچانے کے لیے متعلقہ ادارے کب عملی اقدامات کریں گے

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*