سندھ میں اربوں کے فنڈز کے باوجود عدم مساوات: تھر میں پانی کا بحران، کراچی میں سہولیات کا فقدان اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم کا بڑا سوال

Artcle: Erzah Ather

سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جو قدرتی اور مالی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں شہریوں کی مساوی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی نظام کی شدید کمی رہی ہے۔ یہ صورتِ حال اس اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ جس خطے میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، وہاں کا ایک بڑا طبقہ اب بھی بنیادی سہولیات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے محروم کیوں ہے؟ نیز کیا یہاں کے عوام اس بات سے باخبر ہیں کہ ان کے نام پر انے والے فنڈز کو کہاں اور کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے؟ سندھ ہر برادری اور طبقے کا مسکن ہے؛ لہٰذا کسی بھی فرد کو موقع فراہم کرنے کا معیار اس کی زبان یا قومیت نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کو اپنے جائز حقوق کے لیے کبھی التجا نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ جو بھی آمدنی یا فنڈز جمع ہوتے ہیں وہ عوام کا پیسہ ہیں اور ان کا فائدے تمام شہریوں تک بلا تفریق پہنچنا چاہیے۔ عوام تک ترقیاتی منصوبوں کی رسائی ان کا بنیادی حق ہے۔ تاہم، اس وقت تھرپارکر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ایک انتہائی تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔ تھرپارکر کی اکثریت دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں لوگوں کو روزمرہ کے استعمال کا پانی لانے کے لیے دور دراز کنوؤں تک جانا پڑتا ہے، جس سے ان کا قیمتی وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ضلع سطح کے تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ تھرپارکر میں صرف ۱۴.۸۱ فیصد گھرانوں کو گھر کے اندر پینے کا پانی میسر ہے۔ اگرچہ سندھ حکومت نے مقالمی آبادی کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے آر او (RO) پلانٹس نصب کیے ہیں، لیکن ان کی موجودہ کارکردگی پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سنہ ۲۰۲۵ء میں ہونے والی ایک تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ کل ۸۳۲ آر او پلانٹس میں سے صرف ۱۰۱ پلانٹس ہی فعال حالت میں تھے۔ دوسری جانب کراچی کا شہر تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف جہاں اس کی خوشحالی اور رونق نظر آتی ہے، تو دوسری طرف لیاری جیسے علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان واضح ہے۔ حال ہی میں سندھ کے وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت ‘لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ’ کا ایک اعلیٰ سطحی مشاورت اجلاس منعقد ہوا، جس میں لیاری کی بحالی اور ترقی کے لیے ۴.۳۷ ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ یہ رقم مرحلہ وار انداز میں خرچ کی جائے گی تاکہ اس علاقے کو جدید شہری معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ لیاری کے رہائشیوں کی تقدیر بدل دے گا اور حکومتِ سندھ اس کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ء کے بجٹ میں ۱۰۰ ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کر کے کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ، پانی، ڈرینیج، سیوریج اور بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انے والے سال کے لیے وفاقی حکومت نے شہر کے لیے ۱۰۰.۱۹ ارب روپے سے زائد کی رقم رقم مختص کی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ ۱۶۷ بڑے اور درمیانے درجے کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ ان میں سے ہر منصوبے کی لاگت ۵۰ کروڑ روپے سے زیادہ ہے، جبکہ ۱۱۰ منصوبے ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ۱ ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آنے والے سال میں مقامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ اب سندھ کے لیے اصل سوال پیسے کی موجودگی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کس علاقے کو کتنا فنڈ ملنا چاہیے اور یہ رقم کن ہاتھوں میں دی جا رہی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال ۲۰۲۳-۲۴ء کی آڈٹ رپورٹ میں سندھ کے مختلف سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ سندھ حکومت نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ صرف ابتدائی آڈٹ اعتراضات ہیں اور آڈٹ کے عمل میں ایسا ہونا ایک عام بات ہے۔ تاہم، اتنی بڑی رقم پر مناسب کنٹرول اور شفافیت نہ ہونے کے باعث یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ پورا فنڈ واقعی اپنے حقداروں تک پہنچ سکے گا۔ آنے والے برسوں میں حکومت ‘سندھ سولر انرجی پروجیکٹ’ کے تحت ایک بڑے شمسی توانائی کے منصوبے کا افتتاح کرے گی، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے لوگوں کو سولر ہوم سسٹمز کی ترسیل اور مفت سولر پینلز کی فراہمی کے ذریعے بااعتماد بجلی مہیا کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر ۲۰۰ سے زائد دیہاتوں کو شمسی توانائی فراہم کی جائے گی اور انے والے سالوں میں ان دیہاتوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ تمام اضلاع کو ایک جتنی رقم دینا عوام کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اگر کراچی کی آبادی کسی دوسرے ضلع کے مقابلے میں زیادہ ہے، تو اسے زیادہ فنڈز ملنے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس کے برعکس، تھر جیسے خطے کی آبادی شدید مستحق ہے؛ لہٰذا تمام اضلاع میں مساوی رقم تقسیم کرنے کے بجائے زیادہ بہتر حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ فی کس کی بنیاد پر فنڈز فراہم کیے جائیں اور جو علاقے معاشی طور پر زیادہ پس ماندہ ہیں، انہیں اضافی امداد اور فنڈز دیے جائیں

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*