آئس کریم کمپنی والز کے 29 کروڑ روپے کے کیس میں تفتیشی افسران پر رقم وصولی کے الزامات، انکوائری شروع

کراچی(کرائم رپورٹر)’ملک کی سب سے بڑی آئس کریم بنانے والی کمپنی کے29 کروڑ روپے کے درج مقدمے میں تفتیشی افسران ریکوری کیلئے سرتولنے لگے’ ایس ایس پی وسطی انویسٹی گیشن نے معاملہ سامنے آنے پر انکوائری شروع کردی’ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل میں 29 کروڑ روپے کے مقدمے کی تفتیش کے حوالے سے تفتیشی افسران کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے مدعی پارٹی کا موقف ہے کہ وہ مقدمے میں شفاف تفتیش اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی چاہتے ہیں تاہم تفتیشی عمل کے دوران مبینہ طور پر رقم کی وصولی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے مقدمے میں 14 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے ایک ملزم ارسلان سے مبینہ طور پر 25 لاکھ روپے اس کے اکاو نٹ سے ٹرانسفر کروائے گئے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ملزم کی عبوری ضمانت ہونے کے باوجود اسے تھانے میں رکھا گیا اور اس دوران تفتیش کے بجائے رقم کا تقاضا کیا جاتا رہا ملزم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کو مقدمے کے شواہد دستاویزات اور دیگر قانونی پہلووں پر تفتیش کرنی چاہیے تاہم مبینہ طور پر بار بار رقم کی وصولی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مقدمے کی تفتیش سے متعلق ایس آئی او ابو حمیر اور تفتیشی افسر جمیل کے حوالے سے بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں دوسری جانب ملزم کو مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر تھانے میں رکھنے کے معاملے پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم تجمل کو درخواست بھی موصول ہو چکی ہے جس پر انکوائری ڈی ایس پی گلبرگ کو انکوائری سپرد کردی گئی ہے اب انکوائری میں یہ تعین کیا جائے گا کہ ملزم کو عبوری ضمانت کے باوجود تھانے میں رکھنے کے الزامات میں کتنی صداقت ہے عدالت سے باہر 25 لاکھ روپے کی مبینہ ٹرانزیکشن کس بنیاد پر ہوئی اور مقدمے کی تفتیش قانون اور شواہد کے مطابق کی جا رہی تھی یا نہیں کیونکہ تفتیشی افسر جمیل ملزم سے عدالت سے عبوری ضمانت کینسل کرنے کے لئے زور دیتے رہے تمام وڈیوز اور موبائل کال ریکارڈنگز سامنے آچکی ہیں واضح رہے کے والس آئیس کریم کی ڈسٹریبیوشن کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کے ہم نے کوئی ڈیمانڈ ڈیل کی نہیں کی ہے میرے جعلسازی سے 29 کروڑ روپے چوری کئے گئے ہیں جس کی تمام تر تفصیلات میرے پاس موجود ہے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں تفتیش پر کچھ روز قبل نوجوانوں کو تشدد کرنے کا معاملہ بھی اس سے قبل سامنے آچکا ہے ایس ایس پی سینٹرل تفتیش انعم تجمل کا کہنا ہے کے انکوائری کی جارہی ہے

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*