
سکھر : کئی دہائیوں بعد انتہائی نایاب پرندے کی پاکستان واپسینے ماہرین کو حیران کر دیا، وائٹ ٹیلڈ سی ایگل عموماً اسکینڈینیویا سے سائبیریا تک کے سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ صدی (155 سال) کے طویل عرصے بعد یورپ اور سائیبیریا کا انتہائی نایاب پرندہ "سفید دُم عقاب” راستہ بھٹک کر سکھر پہنچ گیا۔
اس نایاب پرندے کی پاکستان میں اچانک آمد نے پرندوں اور جنگلی حیات کے ماہرین کی توجہ حاصل کرلی۔
وائٹ ٹیلڈ سی ایگل عموماً اسکینڈینیویا سے سائبیریا تک کے سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
سکھر پہنچنے پر اس نایاب مہمان کے ساتھ مقامی شکاریوں نے بدترین سلوک کیا ، شکاریوں نے عقاب کو پکڑ کر قید کر لیا اور اس کی اڑان روکنے کے لیے پر کاٹ دیے۔
پرندے کو شکار کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے اس کی آنکھیں سی کر اسے شدید نقصان پہنچایا گیا۔
اطلاع ملنے پر ماہرین اور جنگلی حیات کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عقاب کو سکھر سے ریسکیو کیا، عقاب کا تعلق اسکینڈینیویا اور سائیبیریا کے سرد علاقوں سے ہونے کے باعث اسے مخصوص درجہ حرارت والے ماحول میں رکھا گیا ہے۔
ماہرینِ حیوانیات اور ویٹرنری ڈاکٹرز کی ٹیم اس کے زخموں کے علاج، دیکھ بھال اور بحالی کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
جنگلی حیات کی ٹیم کے مطابق اس نایاب پرندے کی مکمل صحتیابی کے بعد اسے مارگلہ ہلز سے آزاد کر کے اس کے قدرتی مسکن کی طرف روانہ کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ صدی بعد اس پرندے کی پاکستان میں موجودگی ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ کی تاریخ میں ایک اہم پیشرفت ہے۔
