
کراچی: شہر قائد میں پولیس نے کوکین کوئن انمول پنکی کے خلاف منشیات کیس میں 6 ماہ بعد تفتیش مکمل کر کے عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا۔
سٹی کورٹ میں منشیات ڈیلر انمول پنکی کے خلاف منشیات کے کیس میں پیش رفت ہوئی ہے، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے 6 ماہ بعد ملزمہ کے خلاف تفتیش مکمل کر کے عدالت میں چالان جمع کرایا ہے۔
کراچی سٹی کورٹ نے چالان منظور کرتے ہوئے مقدمہ مزید کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت منتقل کر دیا۔
پولیس کے عبوری چالان میں انمول پنکی کو گرفتار ظاہر کیا گیا ہے، چالان کے مطابق ملزمہ شہر میں منشیات کا بڑا نیٹ ورک چلا رہی تھی، جو نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا رہا تھا۔
چالان میں ملزمہ کے خلاف عائد الزامات اور دوران تفتیش سامنے آنے والے شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کو پولیس نے 11 مئی کو کراچی کے علاقے گارڈن کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا تھا، پولیس اور ایک وفاقی انٹیلی جنس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں فلیٹ سے تقریباً ڈیڑھ کلو کوکین، پیکنگ کا سامان، دوسری منشیات اور 9 ایم ایم پستول سمیت دس گولیاں ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ برآمد شدہ کوکین کی مالیت تقریباً تین کروڑ روپے بتائی گئی۔
بعد ازاں میڈیا میں انمول پنکی کو سب سے بڑی منشیات ڈیلر ثابت کرنے کی مہم چلائی گئی جس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کا کہنا تھا کہ ’’میڈیا کی وجہ سے زیادہ شور مچا ورنہ انمول پنکی اتنی بھی بڑی منشیات سپلائر نہیں ہے۔‘‘
