صدر ٹرمپ نے ایران کا 7 دن میں جنگ بندی کا منصوبہ مسترد کر دیا

امریکی صدر نے ایران کے منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے کو مسترد کردیا ہے، تاہم وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا انہوں نے براہِ راست جواب نہیں دیا۔

وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک رپورٹر نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملہ کریں گے؟ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کی پیش کردہ ڈیل مسترد کررہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران ایسی ڈیل کرنا چاہتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے، کیونکہ ان کے بقول ایران جنگ میں بری طرح نقصان اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور انہیں بھی معاہدہ کرنا پسند ہے، لیکن ایرانی تجویز قابل قبول نہیں۔

ایران نے اس سے قبل جنگ ختم کرنے کے لیے سات روزہ روڈ میپ پیش کیا تھا، ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں اس منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کیا، تاہم ایران پر آئندہ فوجی کارروائی کے حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔

ایران نے قطر کے توسط سے امریکا کو سات روزہ منصوبہ بھیجا تھا جس کے تحت اگر امریکا ان کے مطالبات مان لیتا ہے تو اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور خطے میں جاری تمام جنگی کارروائیاں روک دی جائیں گی۔

تہران کی اس تجویز میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد اثاثے بحال کرے اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس منصوبے کی تفصیل بتائی اور کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدگی موجود ہے تو سب کچھ تیار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب انتخاب امریکا کے پاس ہے، ایران کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکیوں یا زبردستی کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے خودمختارانہ حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد سے نہ صرف بحری آمدورفت بحال ہوگی بلکہ خطے میں، بالخصوص لبنان کے محاذ پر بھی جنگ بندی ممکن ہو سکے گی۔

تاہم، امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں کہ ایران ان کے مطالبات پر پورا اترے گا، اور انہوں نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرمم انتخابات کے بعد بمباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک نقشہ بھی شیئر کیا جس میں آبنائے ہرمز کا گھیراؤ کر کے اسے ”ٹرمپ اسٹریٹ“ کا نام دیا گیا تھا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے حکام نے بتایا ہے کہ ثالثوں کے ساتھ گفتگو مثبت انداز میں جاری ہے، تاہم 28 فروری سے جاری اس تنازع میں جہاں ہزاروں جانیں ضائع ہوچکی ہیں، وہاں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور ایران امریکا کے سرکاری جواب کا منتظر ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*