منشیات کیس: عدالت نے پنکی اور اس کے ساتھی پر فرد جرم عائد کر دی

دونوں ملزمان پنکی اور سمیر کا صحتِ جرم سے انکار، عدالت نے گواہوں کو نوٹس جاری کردیئے

کراچی کی مقامی عدالت نے منشیات کیس میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی اور ملزم سمیر پر فردِ جرم عائد کردی، تاہم دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا۔

مقامی عدالت میں انمول پنکی اور سمیر کے خلاف منشیات کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزمان کو مقدمے میں عائد الزامات پڑھ کر سنائے اور دونوں پر فردِ جرم عائد کردی۔ تاہم انمول پنکی اور سمیر نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا۔

ملزمان کے انکار کے بعد عدالت نے مقدمے کے گواہوں کو نوٹس جاری کردیئے اور انہیں آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔ مقدمے میں اب استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کو 12 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گارڈن میں پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی میں ملزمہ کے قبضے سے تقریباً ڈیڑھ کلو کوکین، 9 ایم ایم پستول اور کوکین کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیکل برآمد ہوا تھا۔

کراچی پولیس کے مطابق گرفتاری کے بعد انمول پنکی کو پہلے سے درج متعدد مقدمات میں بھی گرفتار ظاہر کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 16 سے زائد مقدمات درج ہیں، جن میں منشیات فروشی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کے خلاف درخشاں، گزری، بغدادی، گارڈن، بوٹ بیسن اور ڈیفنس تھانوں میں مقدمات درج ہیں، جبکہ مبینہ منشیات نیٹ ورک سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق انمول پنکی کے خلاف 2020، 2021 اور 2022 کے دوران منشیات فروشی کے مختلف مقدمات بھی درج ہوئے تھے، جن میں وہ طویل عرصے تک مفرور رہی۔ گارڈن تھانے میں درج ایک مقدمے میں گرفتاری کے بعد اسے دیگر مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا۔

پولیس اور تفتیشی حکام نے انمول پنکی پر منشیات کی خرید و فروخت اور مبینہ طور پر منظم منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مبینہ نیٹ ورک کراچی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں متعدد سہولت کار شامل تھے۔

حکام کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمہ کے رابطوں، بینک لین دین اور مبینہ منشیات سپلائی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق ملزمہ کے مالیاتی ریکارڈ اور بینک اکاؤنٹس کی چھان بین بھی جاری ہے، جبکہ اس کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا برآمد ہوا ہے جس کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

انمول پنکی کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات میں گارڈن تھانے کا منشیات کیس بھی شامل ہے۔ جون 2026 میں اس مقدمے میں مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت کی درخواستوں پر بھی کارروائی ہوئی تھی۔ پولیس نے بعض ملزمان پر پنکی کے لیے رقوم وصول کرنے اور مبینہ منشیات نیٹ ورک میں معاونت کا الزام عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں بھی پیش رفت ہوئی۔ 5 اگست 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے پولیس کا حتمی چالان منظور کرلیا تھا۔ پولیس نے چالان میں قتل کی دفعہ تبدیل کرکے اسے قتل بالسبب قرار دیا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*