
کراچی(22 ستمبر 2026): کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کے حوالے سے پریشان کن صورتحال سامنے آئی ہے جہاں شہرِ قائد کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ایک شدید مالی بحران سے دوچار ہو چکا ہے۔
بینکوں نے کے الیکٹرک کی نئی فنانسنگ مکمل طور پر روک دی ہے اور پرانی فنانسنگ کی رقم بھی تیزی سے نکالنا شروع کر دی ہے، جس کے باعث ادارے سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کی لیکویڈیٹی نکل گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹیرف کے اجراء میں تاخیر اور قانونی تنازعات نے کے الیکٹرک کے مالی معاملات کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بینکوں نے ادارے سے اپنے 30 ارب روپے واپس نکال لیے ہیں جبکہ ٹیرف میں تعطل کے باعث 35 ارب روپے کے اسلامی بانڈز بھی التوا کا شکار ہو چکے ہیں۔
کے الیکٹرک کو 2024 سے 2030 کے کنٹرول پیریڈ کے لیے تاحال باقاعدہ ٹیرف جاری نہیں کیا جا سکا۔ نیپرا نے دو سال کی تاخیر سے 2025 میں کے الیکٹرک کے لیے 39 روپے فی یونٹ ٹیرف جاری کیا تھا، تاہم دو ماہ بعد ہی ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسے معطل کر کے 32 روپے فی یونٹ کا نیا ٹیرف جاری کر دیا گیا۔
ٹیرف میں اس اچانک کمی اور تبدیلی نے کے الیکٹرک کے مالی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کے الیکٹرک نے اس نظرثانی شدہ ٹیرف کو نیپرا ٹریبونل میں چیلنج کر رکھا ہے جہاں اس کی درخواست پر فیصلہ تاحال زیرِ التوا ہے۔
مالی دباؤ بڑھنے کے باعث کے الیکٹرک کا نظام بھی متاثر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرمائے کی کمی کی وجہ سے ادارے کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور ٹرانسمیشن لائنیں متاثر ہو رہی ہیں، جس سے کراچی میں بجلی کی سپلائی کے حوالے سے مشکلات واضح ہونے لگی ہیں۔
اس وقت ادارے کی زیادہ تر توجہ ہنگامی نوعیت کے کاموں پر مرکوز ہے جبکہ کیش کی کمی کے باعث خریداری اور دیگر اہم آپریشنل سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں۔حالات اتنے خراب ہیں کہ کے الیکٹرک اپنے مالی سال 2024، 2025 اور 2026 کی مالیاتی اسٹیٹمنٹس بھی تاحال جاری نہیں کر سکی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مالیاتی اسٹیٹمنٹس میں تاخیر کی بڑی وجہ ٹیرف کا قانونی تنازع اور نیپرا ٹریبونل میں معاملہ زیرِ سماعت ہونا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ سطح پر ہی ٹیرف برقرار رہا تو کے الیکٹرک کے لیے کمپنی کو چلانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
معروف مالیاتی ایکسپرٹ سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ ایک نئی ورکنگ کے تحت 37 سے 38 روپے فی یونٹ ٹیرف ملنے کی صورت میں کے الیکٹرک بریک ایون کے قریب پہنچ سکتی ہے، لیکن اس سے کم ٹیرف کی صورت میں ادارے کو شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ٹیرف میں کمی کے بعد کے الیکٹرک کے مالی نتائج پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ادارہ تقریباً 4 ارب روپے سالانہ منافع کمانے کے بجائے 80 ارب روپے سے زائد کے بڑے خسارے میں چلا گیا ہے۔
مالیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کے الیکٹرک کا یہ مالی خسارہ بالآخر کراچی میں بجلی کی بلاتعطل سپلائی کے نظام کو بھی براہِ راست متاثر کرے گا۔
کے-الیکٹرک کے ترجمان نے کہا:
"ملٹی ایئر ٹیرف کا معاملہ اس وقت معزز نیپرا اپیلٹ ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہے۔ کمپنی عدالتی اور ریگولیٹری عمل کا احترام کرتی ہے اور زیرِ التوا قانونی کارروائی پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔ ہم اپنے صارفین کی خدمت اور متعلقہ قوانین کے دائرے میں اپنی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔”
