ممکنہ فضائی حملہ: ریاض ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے

سعودی دارالحکومت میں ہفتے کے روز ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں: رائٹرز

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایئرپورٹ کے قریب ہفتے کے روز دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے بھی نظر آرہے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے حملوں کے پیشِ نظر رات گئے الرٹ بھی جاری کیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر میڈیا اداروں کی جانب سے جاری ویڈیو اور تصاویر میں ریاض ایئرپورٹ ہائی وے، مرکزی ٹرمینل اور دیگر تنصیبات کے قریب دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

ویڈیو کے ایک حصے میں ایندھن کے ٹینکوں کے قریب سے بھی آگ کے شعلے بلند ہوتے نظر آرہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے اور رات گئے جاری ہونے والے الرٹس پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے رات گئے ریاض اور مشرقی شہر الخرج میں فضائی حملوں کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر شہریوں کو فون پر الرٹ بھیجے تھے، جس کے بعد ہفتے کی صبح صورتحال معمول پر آنے کا پیغام بھی جاری کیا گیا تھا۔ تاہم اس پیغام سے قبل ریاض کے علاقے ’علیا‘ میں موجود روئٹرز کے ایک صحافی نے دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی۔

واضح رہے کہ رواں سال امریکا-ایران جنگ کے آغاز کے بعد بھی ریاض میں کچھ الرٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم جولائی میں حوثیوں کے ساتھ شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد اب دوباہ الرٹس جاری کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

یمن کے حوثی گروپ نے گزشتہ ہفتے بھی سعودی عرب میں مختلف مقامات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان حملوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کے ساتھ اہم اہم اسٹریٹیجک مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جمعرات کی رات سعودی عرب کے طائف میں واقع ’شاہ فہد ایئر بیس‘ پر ہونے والے ہونے والے ایک حملے میں اٹلی کے ’ایف 2000‘ طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

حوثیوں نے دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے باب المندب اور اس کے ساحلی مقامات پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیجی ممالک کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کا یہ متبادل راستہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

حوثیوں کے ان حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور بحری تجارت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اٹلی نے اس سمندری راستے سے اپنے تجارتی جہازوں کو بحفاظت گزارنے کے لیے بھی جبوتی میں موجود ایک اطالوی جنگی جہاز کو آبنائے باب المندب میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*