کراچی: میر رضا کیس میں پیش رفت، آسٹریلیا میں مقیم حسن تنولی کا بیان 15 ستمبر کو زوم کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا

کراچی: میر رضا کیس میں آسٹریلیا میں مقیم حسن تنولی کا بیان 15 ستمبرکو زوم کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا، بزنس پارٹنر احمد بھردے کی جانب سے کمیشن میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے حسن تنولی کا نام لیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے معروف میر رضا کیس کی تحقیقات میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جوڈیشل کمیشن نے معاملے کی شفاف تفتیش کے لیے مزید اہم گواہان کو 15 ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے "وافلکس” کے منیجر شیری اور اکاؤنٹنٹ محمد عمیر خان سمیت دیگر اہم گواہان کو طلب کیا ہے، تمام گواہان کے بیانات 15 ستمبر کو صبح 11 بجے قلمبند کیے جائیں گے۔
کیس کے اہم کردار حسن تنولی کا بیان 15 ستمبر کو دوپہر 12 بجے زوم آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا، حسن تنولی اس وقت آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔
بزنس پارٹنر احمد بھردے نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے حسن تنولی کا نام لیا تھا۔
احمد بھاردے کا کہنا تھا کہ جب میر رضا کا فون نمبر بند جا رہا تھا تو حسن تنولی نے ان سے رابطہ کیا تھا۔
میر کے بزنس پارٹنر نے کمیشن کو بتایا تھا کہ حسن تنولی نے میر رضا سے 50 لاکھ روپے کی رقم وصول کرنی تھی۔

یاد رہے میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن کے سامنے ان کے بزنس پارٹنر احمد بھردے نے بیان ریکارڈ کرایا تھا ، تاہم کمیشن نے ان کے بعض جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیان پر مکمل یقین نہیں ہے۔
احمد بھردے نے بتایا کہ وہ میر رضا کو بچپن سے جانتے ہیں اور دونوں پہلی جماعت سے ساتھ تھے، کالج کے دوران بھی ساتھ رہے، مختلف ایونٹس کیے اور بعد ازاں کاروباری شراکت داری شروع کی۔
کمیشن نے احمد سے سوال کیا کہ میر رضا کے لاپتہ ہونے کے فوراً بعد انہیں کاروباری ادائیگیوں کی فکر کیوں تھی اور انہوں نے خاندان سے اپنے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کی بات کیوں کی۔ احمد نے جواب دیا کہ ہر منگل آن لائن ڈلیوری کی ادائیگی آتی تھی اور میر رضا کی غیر موجودگی سے کاروباری ادائیگیوں میں مشکلات پیدا ہوسکتی تھیں۔
احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا اپنے والد کے قرضوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار تھے، گزشتہ برس خاندان کے مالی مسائل شروع ہوئے تھے اور میر رضا نے بتایا تھا کہ والد کی جانب سے منگوایا گیا ایک کنٹینر غائب ہوگیا جبکہ والدہ نے زیورات بھی فروخت کیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میر رضا نے والد کے قرض کے حوالے سے لوگوں کی جانب سے گھر آکر مطالبات کرنے کا بھی ذکر کیا تھا۔
احمد نے بتایا تھا کہ میر رضا کے قرض خواہوں میں حسن تنولی سمیت دو افراد نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ ان کے مطابق اسد علی کے میر رضا کو 25 لاکھ جبکہ حسن تنولی کے 50 لاکھ روپے واجب الادا تھے۔
انہوں نے مزید بتایا تھا کہ میر رضا کی گمشدگی کے روز دوپہر میں حسن تنولی نے بھی فون کیا تھا، جبکہ اسد علی بٹ اور مجتبیٰ نے بھی رابطہ کیا۔
وافلکس میں شراکت داری سے متعلق سوال پر احمد کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ آصف اور عابد بھی پارٹنر تھے۔ کمیشن نے ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد احسان انیس شمسی بھی کاروبار میں 30 فیصد حصے کے مالک ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*