
تحریر راحت کاظمی
سوالات: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان میں نئے اور نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی حمایت نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس بحث کا سب سے شدید ردِعمل سندھ سے سامنے آیا ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے سندھ کی وحدت اور موجودہ آئینی حیثیت کے تحفظ کو اپنی سیاست کا مرکزی نکتہ بنا لیا ہے۔
محسن نقوی نے حالیہ قومی پالیسی مکالمے میں کہا کہ پاکستان کے 79 سالہ انتظامی نظام کو ازسرِنو دیکھنے اور ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو انہیں عوامی رائے اور آئینی طریقہ کار کے تحت تشکیل دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے اضلاع اور ڈویژن بن سکتے ہیں تو نئے صوبوں پر بھی بات ہونی چاہیے، جبکہ سندھ میں نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی شناخت ختم نہیں ہوگی۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خواہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کے بجائے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
سندھ حکومت کا سخت ردِعمل
محسن نقوی کے بیان کے فوراً بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے سخت ردِعمل دیا۔ سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبے محض انتظامی یونٹس نہیں بلکہ اپنی تاریخ، شناخت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مقصد اختیارات کو عوام کے قریب لانا ہے تو یہ کام موجودہ آئینی ڈھانچے میں بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے صوبوں کی تشکیلِ نو ضروری نہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور نے بھی سندھ اسمبلی میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی دھرتی کی تقسیم نہیں ہونے دیں گی اور سندھ کی وحدت کے معاملے پر پارٹی اور صوبے کے عوام ایک آواز ہیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ساتھ ان کا تعلق نسلوں پر محیط ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ فریال تالپور کے بیان کے بعض حصوں کو سوشل میڈیا اور سیاسی ناقدین نے تنقید کا نشانہ بنایا، خصوصاً اس سوال کے تناظر میں کہ طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کارکردگی کا حساب کس طرح پیش کرتی ہے۔
لندن ملاقات نے معاملہ مزید گرم کردیا
اسی دوران 5 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر آصف علی زرداری اور محسن نقوی کے درمیان لندن میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں نئے صوبوں اور سندھ کی ممکنہ تقسیم کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق زرداری نے سندھ کی تقسیم یا اس نوعیت کی کسی تجویز کو پیپلز پارٹی کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایسے حساس آئینی معاملات وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
تاہم اس ملاقات کے حوالے سے مختلف سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس میں فرق موجود ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح طور پر کہا کہ پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی بل یا ترمیم زیرِ غور نہیں اور لندن میں ہونے والی ملاقاتوں کو ایسی قانون سازی سے جوڑنا قبل از وقت ہے۔
لہٰذا اس وقت یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نئے صوبوں یا سندھ کی تقسیم کے حوالے سے کوئی حتمی آئینی یا پارلیمانی فیصلہ ہوچکا ہے۔
اصل سوال: سندھ کو ملنے والے وسائل کہاں خرچ ہوئے؟
نئے انتظامی یونٹس کی بحث نے سندھ میں ایک دوسرا بنیادی سوال بھی اٹھا دیا ہے: گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران سندھ حکومت کو ملنے والے وسیع مالی وسائل کے باوجود عام شہری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں وہ بہتری کیوں نظر نہیں آتی جس کی توقع کی جاتی ہے؟
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 میں سندھ کا مجموعی بجٹ تقریباً 3.45 ٹریلین روپے تھا، جبکہ وفاقی منتقلیاں تقریباً 2.096 ٹریلین روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی بجٹ میں تعلیم کے لیے تقریباً 523.73 ارب روپے اور صحت کے لیے تقریباً 326.5 ارب روپے مختص کیے گئے۔
اسی طرح 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 1.018 ٹریلین روپے بتایا گیا، جس میں صوبائی ADP کے لیے 520 ارب روپے، ضلعی ADP کے لیے 55 ارب روپے، وفاقی PSDP اور دیگر ذرائع شامل تھے۔ حکومت سندھ کے مطابق 2024-25 میں 468 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات ہوئے اور جاری شدہ فنڈز کے استعمال کی شرح 73 فیصد رہی۔
حکومت سندھ یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ 2008 سے 2026 کے دوران صوبے میں 13 ہزار سے زائد ترقیاتی اسکیمیں شروع کی گئیں، جن میں سے 9,193 مکمل ہوچکی ہیں۔
لیکن ناقدین کا سوال ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر وسائل اور ترقیاتی اسکیمیں موجود ہیں تو سندھ کے متعدد شہروں اور دیہی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، پینے کے پانی، نکاسیٔ آب، سڑکوں، سرکاری اسپتالوں اور اسکولوں کی صورتحال اب بھی کیوں تشویش ناک دکھائی دیتی ہے؟
یہ سوال صرف سیاسی تقریروں تک محدود نہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سندھ حکومت، لوکل گورنمنٹ و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ اور دیگر صوبائی محکموں کے بارے میں مختلف آڈٹ رپورٹس جاری کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ مالی و انتظامی معاملات پر باقاعدہ آڈٹ اعتراضات موجود رہے ہیں، تاہم ہر آڈٹ اعتراض کو خودبخود ’’کرپشن ثابت ہونے‘‘ کے مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ کسی مخصوص بدعنوانی کے الزام کے لیے متعلقہ تحقیقات یا عدالتی/قانونی نتیجہ ضروری ہے۔
اسپتال، اسکول اور سڑکیں: دعووں اور زمینی حقیقت کا فرق
سندھ حکومت کے مطابق صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر اس کے بڑے ترجیحی شعبے ہیں۔ 2025-26 کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لیے سینکڑوں ارب روپے رکھے گئے، جبکہ ترقیاتی پروگرام میں سڑکوں، شہری انفراسٹرکچر، آبپاشی، صاف پانی اور سیوریج کے منصوبے بھی شامل کیے گئے۔
اس کے باوجود عوامی سطح پر شکایات کا بڑا حصہ انہی شعبوں سے متعلق ہے۔ شہری علاقوں میں ٹوٹی سڑکیں، نکاسیٔ آب کے مسائل، پینے کے پانی کی قلت اور ٹریفک و شہری منصوبہ بندی کی خرابیاں جبکہ دیہی سندھ میں صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر تک محدود رسائی مسلسل سیاسی بحث کا حصہ رہی ہے۔
یہاں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ بجٹ کتنا تھا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنا پیسہ حقیقتاً خرچ ہوا، کہاں خرچ ہوا، منصوبے کا معیار کیا تھا اور اس کے نتیجے میں عام شہری کو کیا فائدہ پہنچا؟
بلدیاتی نظام بھی بحث کے مرکز میں
سندھ میں میئرز، چیئرمینز اور ٹاؤن چیئرمینز سمیت بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بھی سیاسی تنازع کا حصہ بن رہی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ اختیارات اور وسائل کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان ہے اور بلدیاتی سطح پر بھی ترقیاتی منصوبوں، ٹھیکوں اور فنڈز کے استعمال کے بارے میں سوالات موجود ہیں۔
تاہم انفرادی میئر، چیئرمین یا کسی مخصوص سیاسی رہنما پر کرپشن کا الزام بغیر ثبوت کے حتمی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں کسی ادارے کے آڈٹ میں بے قاعدگی سامنے آئے، وہاں اس کی نوعیت، رقم، ذمہ دار افسران اور بعد کی کارروائی الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
نوکریوں کے عوض پیسے لینے کے الزامات
سندھ کی سیاست میں سرکاری ملازمتوں کے مبینہ کاروبار کا الزام بھی کوئی نیا نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کے ناقدین مختلف اوقات میں الزام لگاتے رہے ہیں کہ بعض سرکاری بھرتیوں میں میرٹ کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ، سفارش یا مبینہ مالی لین دین کا کردار رہا۔
تاہم ’’سندھ میں نوکریاں پیسوں کے عوض دی جاتی ہیں‘‘ جیسے عمومی دعوے کو پورے صوبائی نظام پر لاگو کرنے کے لیے جامع اور قابلِ تصدیق ثبوت درکار ہوں گے۔ کسی مخصوص بھرتی اسکینڈل، تحقیقاتی رپورٹ یا عدالتی فیصلے کی بنیاد پر بات کی جائے تو معاملہ زیادہ مضبوط اور قابلِ حوالہ بنتا ہے۔
کیا چھوٹے صوبے مسئلے کا حل ہیں؟
یہی اس پوری بحث کا بنیادی سوال ہے۔
محسن نقوی کا مؤقف یہ ہے کہ انتظامی اکائیاں چھوٹی ہوں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں اور میئر یا مقامی قیادت عوام کے مسائل کو زیادہ براہِ راست حل کرے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتظامی اصلاحات اور صوبے کی تقسیم دو الگ معاملات ہیں اور سندھ کی تاریخی و آئینی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے آئینی ترامیم، اختیارات کی تقسیم، مالیاتی نظام، پولیس و عدلیہ کے انتظام، ملازمتوں کی تقسیم، اثاثوں اور اداروں کی تقسیم اور سب سے بڑھ کر عوامی و سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔
اس لیے موجودہ تنازع میں اصل امتحان یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جذباتی نعروں کے بجائے اعداد و شمار، آئینی طریقہ کار، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور عوامی رائے کو بنیاد بنائیں۔
سندھ کے عوام کے سامنے اصل سوال
سندھ کی وحدت، سندھی شناخت اور تاریخی ورثے کا تحفظ ایک الگ اور حساس معاملہ ہے؛ لیکن اسی کے ساتھ عوام کو یہ سوال پوچھنے کا بھی حق ہے کہ صوبے کو ملنے والے اربوں اور کھربوں روپے کے مقابلے میں تعلیم، صحت، پانی، سڑک، روزگار اور شہری سہولیات کی صورتِ حال کیا ہے۔
اگر موجودہ نظام واقعی عوام کو مطلوبہ سہولیات نہیں دے پا رہا تو محض ’’صوبہ نہیں بننے دیں گے‘‘ کہنا کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی حمایت کرنے والوں کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نئی انتظامی حدود واقعی عوام کی زندگی بہتر کریں گی، نہ کہ صرف سیاسی اور انتظامی طاقت کی نئی تقسیم کا ذریعہ بنیں گی۔
یوں محسن نقوی کا بیان محض نئے صوبوں کی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے حکمرانی کے پورے ماڈل، مرکز اور صوبوں کے تعلق، بلدیاتی اختیارات اور سندھ میں گزشتہ کئی برس کی حکمرانی کی کارکردگی پر ایک بڑے سیاسی احتساب کا دروازہ کھول چکا ہے۔
اب فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عوامی رائے، شفاف اعداد و شمار، آزاد آڈٹ اور آئینی طریقہ کار سے ہونا چاہیے۔
ا
