
کراچی میں فائر سیفٹی کے معاملے پر کے ایم سی کی حالیہ کارروائیوں اور خود کے ایم سی ہیڈ آفس میں پیش آنے والی آتشزدگی نے شہری حلقوں میں کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صرف چند روز قبل کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے انفورسمنٹ اینڈ امپلیمنٹیشن ڈیپارٹمنٹ نے فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات نہ ہونے پر متعدد پیٹرول پمپس سیل کیے تھے، رپورٹ کے مطابق پیٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بعض پمپس کو سات روزہ نوٹس کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی سیل کردیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ جو ادارہ شہر کے کاروباری مراکز کو فائر سیفٹی کے معیار پر پرکھ رہا تھا، کیا اس نے اپنی تاریخی عمارت اور دفاتر میں بھی وہی معیار نافذ کر رکھا تھا؟
کے ایم سی ہیڈ آفس میں میئر کراچی کے دفتر میں لگنے والی آگ نے اسی سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے، اطلاعات کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں دفتر کے اندر موجود فرنیچر، ایل ای ڈی اسکرین، دفتری سامان اور اہم ریکارڈ کو نقصان پہنچا ہے۔
واقعے کے بعد شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین صرف پیٹرول پمپس، مارکیٹوں اور نجی اداروں پر لاگو نہیں ہونے چاہئیں بلکہ سرکاری دفاتر بھی اسی معیار کے پابند ہونے چاہئیں۔
اگر کسی پیٹرول پمپ پر فائر ایکسٹنگوشر یا دیگر حفاظتی انتظامات کی کمی اسے سیل کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے تو پھر سرکاری عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی آڈٹ، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر الارم، فائر ایکسٹنگوشرز اور دیگر حفاظتی اقدامات کی باقاعدہ جانچ کیوں نہ کی جائے؟
کے ایم سی کے لیے یہ واقعہ محض ایک دفتر میں آگ لگنے کا معاملہ نہیں بلکہ ادارے کے اپنے فائر سیفٹی نظام کی کارکردگی کا امتحان بھی بن گیا ہے،خصوصاً اگر میئر آفس میں موجود سرکاری ریکارڈ واقعی آگ کی نذر ہوا ہے تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ حساس سرکاری دستاویزات کے تحفظ کے لیے متبادل اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ کا نظام کس حد تک فعال تھا۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، آگ لگنے کی اصل وجہ سامنے لائی جائے، کے ایم سی ہیڈ آفس کا مکمل فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ آتشزدگی کے وقت فائر سیفٹی کے کون سے انتظامات فعال تھے۔
