
کراچی : وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ذوالفقاربھٹو نے آئین میں صوبے بنانے کا کہا تو آج انتظامی یونٹس کی بات پرغصہ کیوں آرہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، لیکن کراچی سے کشمور تک پینے کا پانی دستیاب نہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ میں 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ کراچی بدترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، پاکستان کے سب سے بڑے ریونیو انجن کراچی میں گٹر کا ڈھکن تک نہیں، بچے گٹروں میں گر رہے ہیں اور شہری کتوں کے کاٹنے کا شکار ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم تیسری جنگ عظیم رکوانے کی کوشش کررہے ہیں، دوسری طرف اپنے بچوں کو کتوں کے کاٹنے اور گٹروں میں گرنے سے نہیں بچا پارہے۔
وفاقی وزیر نے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ ہم نے 26ویں آئینی ترمیم میں اپنی ترمیم پیش کی تھی، ہمیں کہا گیا کہ 27ویں ترمیم میں اپنی ترمیم لے آئیں۔ وزیراعظم نے بلا کر کہا کہ ہم آپ کی ترمیم کرنے جارہے ہیں، وزیراعظم مان گئے اور سب مان گئے لیکن پیپلزپارٹی کھڑی ہوگئی۔
مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کی ترمیم شامل کی گئی تو وہ دیگر شقوں پر ووٹ نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں جب انتظامی یونٹس کی بات ہوگی تو ہم اس کے ہراول دستہ بنیں گے، کراچی کو پینے کا صاف پانی نہیں دیا جارہا، گٹر میں بچے گر رہے ہیں، نوجوان کرنٹ لگنے سے مر رہے ہیں اور بے روزگاری عروج پر ہے، پھر بھی حکومت کو غصہ نہیں آتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج جب انتظامی یونٹس کی بات ہورہی ہے تو غصہ کیوں آرہا ہے؟ پیپلزپارٹی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے آئین میں 27 مرتبہ ترامیم کیں، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے آئین میں صوبے بنانے کی بات کی تھی، اگر ایم کیو ایم سے اتنی ناراضی ہے تو ذوالفقار علی بھٹو شہید سے بھی ناراض ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ان کے لوگ اربوں پتی بن گئے، سوال یہ ہے کہ کس کاروبار میں اتنا پیسہ آتا ہے؟

