تشدد کے شکار علی جعفری کے ٹیچر عبداللہ جمال کی میڈیا سے گفتگو

کراچی: ڈیفنس فیز 8 میں وحشیانہ تشدد کے شکار نوجوان علی جعفری کے ٹیچر عبداللہ جمال نے ساحل تھانے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کبھی مصطفیٰ عامر کی لاش ملی، کبھی میر رضا کی لاش ملی، شکر ہے علی خیریت سے واپس آ گیا۔

عبداللہ جمال نے کہا تشدد کے باعث علی کی ٹانگ اور ہاتھ پر شدید نوعیت کے زخم آئے ہیں، جو باتیں ویڈیو میں منظر عام پر نہیں آئیں وہ بھی شرم ناک ہیں، ہم بچے کے ساتھ کھڑے ہوئے ورنہ انصاف نہ ملتا۔

انھوں نے کہا واقعے کا مقدمہ ہم نے اس لیے درج کرایا تاکہ کل کو کسی اور بچے کے ساتھ یہ ظلم نہ ہو، تشدد کے شکار علی جعفری کے والد دل کے مریض ہیں، یہ کیسے لوگ ہیں کہ کسی کے بچے کو سڑک سے اٹھا کر تشدد کرتے رہے۔

ٹیچر عبداللہ جمال نے کہا کہ ان کے بچوں نے ظلم کیا اور والدین معاملے کو سلجھانا چاہتے تھے، پولیس نے ہمیں 2 گھنٹے انتظار کرایا کہ دونوں فیملیوں میں رضا مندی ہو جائے، لیکن ہمیں علی کے لیے انصاف چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا، ایسا کچھ نہیں ہے، علی جعفری کے دوست فیصل نے اسے بلایا تھا، لین دین کا مسئلہ نہیں ہے، اگر تھا بھی تو کیا اٹھا کر لے جاؤ گے، تشدد کرو گے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*