

’’ڈھائی کروڑ آبادی کا تو ملک ہوتا ہے ہم نے شہر بنایا ہوا ہے۔ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں 50 لاکھ آبادی سے زیادہ کا شہر نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو شرم نہیں آتی۔ کچھ کرنے کی ہمت اور عزم ہوتا تو اس شہر کا بیڑہ غرق نہیں ہوتا‘‘… یہ ریمارکس سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت انتہائی اہم ترین مقدمے کے دوران جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل سنگل بینچ نے دیئے تھے۔ سندھ کو سات ریاستوں میں تقسیم کرنے کی درخواست کے دوران عدالت میں کراچی کے انتظامی مسائل اور صوبے کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سوالات بھی زیر بحث آئے تھے۔
آج کئی برس بعد یہ بحث ایک مرتبہ پھر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس بار معاملہ کسی ایک عدالتی سماعت تک محدود نہیں بلکہ ملک کی مجموعی طرز حکمرانی اور انتظامی ڈھانچے پر قومی سطح کی بحث بن چکا ہے۔ 30 جولائی 2026 کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ میں کہا کہ ملک جس نظام کے تحت چل رہا ہے وہ ’’کولیپس‘‘ کر چکا ہے اور مسائل حل کرنے کے لئے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک جگہ بیٹھ کر نئے یونٹس اور صوبوں سمیت بڑے قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں۔
یہی وجہ ہے کہ سندھ میں نئے صوبے، کراچی کی انتظامی حیثیت اور نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی ایوانوں میں پہنچ گیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں یکم ستمبر سے اس معاملے پر بحث کا آغاز ہوا اور 3 ستمبر 2026 کو اس بحث کے اختتام پر سندھ اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں سندھ کی تقسیم، صوبائی حدود میں تبدیلی اور سندھ کے کسی ضلع، ڈویژن یا علاقے کو الگ کرنے یا نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کی تجاویز مسترد کردی گئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ سندھ سے باہر نہیں ہوسکتا اور سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسئلہ بہتر حکمرانی کا ہے تو سندھ میں مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بنائے جاسکتے ہیں اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے پر بھی بات ہوسکتی ہے، جبکہ اپوزیشن ارکان نے بھی سندھ کی تقسیم کے بجائے انتظامی اختیارات اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے واک آؤٹ کیا جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان بھی اجلاس میں موجود نہیں تھے۔
پوری دنیا میں انتظامی یونٹس کی تعداد چالیس سے پچاس اور کہیں اس سے بھی زیادہ ہے‘ لیکن ہمارے ملک میں اتنے اہم موضوع پر بحث مباحثہ کرنے والا کوئی نہیں۔ ہم نے آدھا ملک (مشرقی پاکستان) صرف اس بحث میں گنوا دیا کہ مرکز مضبوط ہونا چاہئے یا عوام اور جب اہلیان مشرقی پاکستان کی بات مانی تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔ آگ ہر طرف پھیل چکی تھی اور عوامی لیگ اپنے چھ نکات پر اتنی مقبول ہو گئی تھی کہ پھر بات بنتے نہ بنی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم پاکستان کے سیاسی نظام میں سے ساٹھ فیصد افراد کو نکال کر ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں؟ عوام اور سیاسی جماعتیں خاندانی بادشاہت کی لوٹ مار سے بچنے کیلئے ایک آئینی اور قانونی حق مانگ رہی ہیں… اور اگر انہیں اس سے روکا گیا تو پھر مسائل بڑھیں گے۔ اب پھر ایک مرحلہ آیا ہے کہ ملک کی یکجہتی کا فیصلہ کرنا ہے یا چند سو خاندانوں کو قصائی بنا کر پورے ملک کو ان کے سامنے بھیڑ بکریاں بنا کر ڈال دینا ہے۔
جب قائد اعظم نے بمبئی سے سندھ کو آزادی دلائی اور بمبئی تقسیم ہوا تو سندھ کی ترقی کا دروازہ کھلا… سندھ ان دنوں ہندوئوں کے قبضے میں تھا… سندھ اسمبلی میں ہندوئوں کی 60 فیصد اور مسلمانوں کی 40 فیصد نمائندگی تھی… اس کے باوجود قائد اعظم نے اتنی زبردست تحریک چلائی کہ ہندو اسے نہ روک سکے اور بمبئی کی تقسیم سے ملنے والا ٹکڑا پاکستان کا حصہ بنا۔ ان دنوں کراچی وفاق کی زیر نگرانی علاقہ تھا۔ اب پنجاب کی طرح سندھ کی آبادی میں بھی اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ اتنے بڑے ہجوم کو چلانا حکمرانوں کے لئے آسان نہیں رہا… اس لئے سندھ میں بھی شدت کے ساتھ انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ شروع ہوا ہے۔
ماضی میں جائیں تو سندھی سیاستدانوں اور دانشوروں نے کتابیں لکھ کر اور اخباری مضامین کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کیوں ضروری ہے اور اہلیان سندھ کو اس کا کیا فائدہ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن فوائد کا ان مضامین میں ذکر کیا گیا ہے، اب وہی فوائد نقصانات قرار دیئے جا رہے ہیں۔ ’’عوامی مفاد‘‘ کو روکا اور جمہوری فوائد سے انحراف کیا جا رہا ہے… کھلم کھلا کہا جا رہا ہے کہ یہ سیٹ اپ ہم برداشت نہیں کریں گے۔
لیکن 2018 کے بعد حالات بھی بدل چکے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے دعوے بھی آزمائے جا چکے ہیں۔ تحریک انصاف نے 2018 کے منشور میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کو شامل کیا تھا اور انتظامی بنیادوں پر نیا صوبہ بنانے کے لئے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے دور حکومت میں مارچ 2022 میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش بھی کیا گیا، لیکن مطلوبہ آئینی عمل مکمل نہ ہو سکا اور جنوبی پنجاب صوبہ قائم نہیں ہو سکا۔
اسی طرح کراچی کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کے 2018 کے منشور میں کراچی کے لئے ایک نئے، بااختیار شہری حکومتی ماڈل اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ اختیارات دینے کی بات کی گئی تھی۔ لیکن کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ اس منشور کا حصہ نہیں تھا۔ یوں 2018 میں جو بحث سیاسی نعروں اور انتخابی امکانات سے جڑی ہوئی تھی، آج 2026 میں اس کا مرکز یہ سوال بن گیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری مسائل اور حکمرانی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ صرف سندھ یا کراچی تک محدود نہیں رہا۔ 2025 اور 2026 میں جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور ملک کے دیگر حصوں کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اکتوبر 2025 میں ملک کے موجودہ چار صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر مزید یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز دی، جبکہ اگست 2026 میں انہوں نے ہر صوبے میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کے خیال کی حمایت کی۔
پاکستان میں صوبوں کا مطالبہ جتنا پرانا ہے… اس کو نہ ماننے کا حربہ بھی اتنا ہی پرانا ہے۔ تمام جاگیردار اور اجارہ دار سیاسی گروپ اس بات پر متفق ہیں کہ نئے صوبے کسی صورت نہیں بننے چاہئیں… اس طرح عوام کو طاقتور بننے کا موقع مل جاتا ہے… اقتدار نچلے طبقے تک پہنچ جاتا ہے اور روایتی سیاست دانوں کی گرفت کمزور ہو جاتی ہے… حکومت میں لوگوں کی مداخلت بڑھ جاتی ہے جو ہر لحاظ سے موروثی سیاست کیلئے خطرناک علامت ہے… اس لئے ہر جگہ کا جاگیردار اور وڈیرہ نئے صوبوں کے قیام کا مخالف ہے… وہ ڈرتا ہے کہ اگر صوبہ بن گیا تو ٹیکس کے ذرائع پیدا کرنے کے لئے کارخانے اور صنعتیں لگانا پڑیں گی… جس کے نتیجے میں ہاری ’’خاندانی غلام‘‘ نہیں رہے گا… اس کی ڈیوٹی کے اوقات کار طے کرنا ہوں گے، ملازمت 8 گھنٹے ہو گی اور وہ اکیلا کام کرے گا… اس کی بیوی اور بچے ’’مفت کے ملازم‘‘ نہیں ہوں گے… بیگار کیمپ ختم ہو جائیں گے… چھٹیاں دینا ہوں گی… میڈیکل کا مطالبہ بھی ماننا پڑے گا… اس طرح تو جاگیردارانہ سسٹم تباہ ہو جائے گا اور جاگیردار خود کو تباہ کیسے کر سکتا ہے… وہ تو غریبوں کو تباہ کرنے کے ’’مشن‘‘ پر کام کر رہا ہے۔
بعض ’’دانشور طوطوں‘‘ کا یہ کہنا ہے کہ صوبے بننے سے ملک ترقی نہیں کرتا۔ ان کے سامنے بھارت ایک ایسی مثال کے طور پر موجود ہے جو مختلف علاقائی مطالبات کے باوجود صوبوں کو ’’جنم‘‘ دے رہا ہے… تلنگانہ بھی اب کوئی نیا بننے والا صوبہ نہیں بلکہ 2014 سے بھارت کا باقاعدہ ریاستی یونٹ ہے۔ افغانستان پر پہلے روس نے بارود برسایا اور پھر امریکہ نے اپنے تمام نئے ہتھیار آزمائے لیکن اب بھی افغانستان بدخشاں سے زابل تک 34 صوبوں میں منقسم ہے اور یہ صوبے کبھی اس کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوئے۔ آج بھی امریکہ‘ برطانیہ سمیت تمام ممالک کی ترقی اور گڈ گورننس کا راز صوبوں کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں پنہاں ہے۔ پاکستان کو ون یونٹ بنانے کا انجام دیکھ لیا گیا۔ اب زیادہ صوبے بنا کر بھی دیکھ لیا جائے۔
تاہم 2026 کی موجودہ بحث نے ایک اہم سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا نئے صوبے ہی واحد حل ہیں یا موجودہ صوبوں کے اندر مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتیں، نئے انتظامی ڈویژن اور اضلاع بھی اسی مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں؟ اگست 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والی ایک قومی سطح کی بحث میں سیاسی جماعتوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے، مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور انتظامی اصلاحات کو بھی زیر بحث لایا۔
یہی سوال سندھ کے معاملے میں بھی اہم بن گیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں 3 ستمبر 2026 کی بحث کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے سندھ کی تقسیم کے بجائے انتظامی اصلاحات اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کہا کہ بہتر حکمرانی کے لئے مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بنائے جاسکتے ہیں اور بلدیاتی نظام کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی علاقائی حیثیت کا فیصلہ سندھ کے منتخب نمائندے ہی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسئلہ حکمرانی کا ہے تو انتظامی اصلاحات اور نئے اضلاع بنائے جا سکتے ہیں۔ اسی روز سندھ اسمبلی نے نثار احمد کھوڑو کی قرارداد منظور کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم اور صوبائی حدود میں تبدیلی کو مسترد کردیا۔
یہاں ایک اہم آئینی حقیقت بھی سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرنے یا نیا صوبہ بنانے کے لئے محض سیاسی اعلان کافی نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت ایسی آئینی ترمیم کو پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں اس کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جبکہ آئینی ترمیم کے لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت کا مرحلہ موجود ہے۔ اسی لئے کسی بھی نئے صوبے یا صوبائی حدود میں تبدیلی کا معاملہ طویل سیاسی اور آئینی اتفاق رائے کا متقاضی ہے۔
اس وقت صورت حال مزید دلچسپ اس لئے ہو گئی ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک طرف سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی جا رہی ہے، لیکن دوسری طرف پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ آئین کے مطابق حل ہونا چاہئے اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اس معاملے پر غور کرے گی۔ تاہم سندھ کی تقسیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کا مؤقف واضح طور پر مخالفت پر مبنی ہے۔
نئے صوبے بنیں گے یا نہیں، کراچی کی انتظامی حیثیت بدلے گی یا نہیں، سندھ مزید انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوگا یا موجودہ صوبائی ڈھانچے کے اندر ہی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں گے… اس کا فیصلہ اب صرف عدالت سے نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے اور آئینی عمل سے ہونا ہے۔ یہی 2026 میں اس پرانی بحث کا سب سے بڑا نیا سوال ہے۔
