
کراچی : میر رضا کیس کی تحقیقاتی کمیٹی میں ورثا کی درخواست پر مزید 2 افسران کی شمولیت کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق نوجوان میر رضا کیس کی تحقیقات کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی میں مزید دو افسران کو شامل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا مقتول میر رضا کے والدین اور ان کے وکیل کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم کے لیے دو پولیس افسران میں ایک ڈی ایس پی اور ایک انسپکٹر کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔
ورثا نے حکام سے درخواست کی ہے کہ ان دونوں افسران کو فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ورثا کی اس درخواست پر پیش رفت جاری ہے اور دونوں افسران کو جلد کمیٹی میں شامل کیے جانے کا فیصلہ متوقع ہے۔
ان نئے افسران کی شمولیت کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کیس کی تمام پہلووں کا جائزہ لیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کرے گی۔
خیال رہے گذشتہ روز کراچی میں میر رضا قتل کیس کی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا پانچ گھنٹے طویل اجلاس ہوا تھا ، جس میں پرانی کمیٹی کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی نئی کمیٹی کو بریفنگ دی۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیرنذیرشیخ نے تفتیش میں پیشرفت اور شواہد سے آگاہ کیا، جس کے بعد ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی سے میر رضا کے والدین نے ملاقات کی ، اس دوران کمیٹی میں دو نئے نام شامل کرنے کی تجویزدی گئی۔
پولیس حکام نے بتایا تھا کہ مشکوک گیسٹ ہاؤس کے عملے کے چھے افراد حراست میں ہیں جبکہ کارمیں آنے والے چارافراد بھی زیرحراست ہیں ، جس کے بعد مجموعی طور پر انیس افراد شامل تفتیش ہیں۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ میر رضا کے معدے سے تیزاب کے شواہد ملے ہیں جس سے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوئے جبکہ ہاتھوں اور پیروں پر بھی تیزاب کی موجودگی کےاثرات ہیں تاہم کیس میں قتل کی دفعہ کےساتھ شواہد چھپانے کی دفعہ دوسوایک بھی شامل کرلی گئی ہیں۔
