
کراچی (25 اپریل 2026): پولیس حکام نے کہا ہے کہ ایف بی آر انسپکٹر شہمیر لاشاری کو گولی مار کر زخمی کرنے والے سابق ایس پی کے بیٹے آغا شہیر کو پناہ دینے والے کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں سڑک پر معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں چلانے کے واقعے میں مفرور ملزم آغا شہیر کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس کے لیے سیف سٹی اور ایس 4 سسٹم کی مدد بھی لی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق جدید کیمروں سے پتا چلا کہ گاڑی شکارپور پہنچی تھی، اور گزشتہ روز ساؤتھ پولیس نے گاڑی برامد کر لی، سفید ریوو ڈالے پر اصل نمبر لگا دیا گیا تھا، نمبر ملزم آغا شہیر کے والد ایس پی آغا اصغر کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
پولیس حکام نے کہا کہ اقدام قتل کے ملزم کی گرفتاری کے لیے رات بھر چھاپے مارے گئے، ملزم کی گرفتاری کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ کے بھی سخت احکامات ہیں، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بھی ہدایات دے رکھی ہیں۔ پولیس حکام نے کہا کہ ملزم کہاں فرار ہوا، کس نے اسے پناہ دی، معلومات حاصل کر رہے ہیں، جب کہ آغا شہیر کو جس نے پناہ دی اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔
پولیس حکام کے مطابق اغا شہیر کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کلفٹن آشیانہ اپارٹمنٹ سے لے کر شکار پور تک چھاپے مارے، پکڑی گئی ملزم کی گاڑی ایس پی ڈی 970 کراچی منتقل کی جا رہی ہے، ٹیکنیکل بنیادوں پر ٹیم کی جانب سے شکارپور میں ٹارگٹڈ سرچ آپریشن کیا گیا تھا، اور آغا شہیر گاڑی چھوڑ کر گن مین سمیت فرار ہوا۔
زخمی انسپکٹر کی عیادت
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نجی اسپتال میں زخمی ایف بی آر انسپکٹر شہمیر لاشاری کی عیادت کی، اور ملزم کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی، وزیر اعلیٰ نے ہر صورت فائرنگ میں ملوث سابق ایس پی کے بیٹے کی گرفتاری کا حکم دیا۔
ملزم آغا شہیر کا نام پی این آئی ایل لسٹ میں بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے پولیس نے خط لکھ دیا ہے، اور کہا گیا کہ یہ اقدام ملزم کو بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
