
کراچی: میٹرک امتحانات شدید انتظامی بدنظمی پر اسلامی جمعیت طلبا نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا طلبہ سے 5 ہزار روپے رشوت طلب کی جا رہی ہے تاکہ انہیں الگ کمرے میں بٹھا کر پیپر حل کروایا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز شدید انتظامی بحران اور آئی ٹی سسٹم کی ناکامی کے ساتھ ہوا، بغیر تیاری کے ڈیجیٹلائزیشن کی منتقلی اور پورٹل کریش ہونے کے باعث 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد طلبہ متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ہزاروں طلبہ بروقت ایڈمٹ کارڈز حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
ناظم کراچی اسلامی جمعیت طلبہ سمیر الحق نے پریس کانفرنس میں امتحانی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئےکہا امتحانی مراکز کے قیام سے لے کر پیپر ڈسٹری بیوشن تک سنگین خامیاں سامنے آئیں،ایڈمٹ کارڈز کے اجرا میں تاخیر، بار بار امتحانی مراکز کی تبدیلی اور آئی ٹی سسٹم کی ناکامی نے لاکھوں طلبہ کو پریشانی میں مبتلا کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امتحانی مراکز پر کھلی بدعنوانی کا بازار گرم ہے، طلبہ سے 5 ہزار روپے رشوت طلب کی جا رہی ہے تاکہ انہیں الگ کمرے میں بٹھا کر پیپر حل کروایا جا سکے۔
سمیر الحق کا کہنا تھا کہ امتحانات کے اخراجات ایک کروڑ سے بڑھا کر 10 کروڑ کر دیے گئے ہیں، جو کرپشن کے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے، شہر بھر میں 520 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، تاہم وہاں پینے کے صاف پانی اور فرنیچر جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اوور کراؤڈنگ اور بجلی کی طویل بندش نے امتحانی عمل کو مزید اذیت ناک بنا دیا ہے۔
انھوں نے نجی اسکولوں کو ہوم سینٹر بنانے سے شفافیت پر سوالات اٹھ گئے، جبکہ نقل کی روک تھام کے دعوے بھی ناکام رہے اور پیپرز امتحان سے پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے رہے۔
ناظم کراچی اسلامی جمعیت طلبہ کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور امتحانی مراکز پر نظم و ضبط قائم رکھنے میں بورڈ انتظامیہ مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
انھوں نے کہا میٹرک بورڈ انتظامیہ اس وقت خود بھی قانونی مسائل کا شکار ہے، چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے دوہری عہدہ اور تنخواہ سے متعلق نوٹس بھی جاری کر رکھا ہے جبکہ سابق کنٹرولر امتحانات کو پہلے ہی بدانتظامی پر شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔
سمیر الحق نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، بورڈ انتظامیہ مستعفی ہو اور شفاف تحقیقات کر کے میرٹ پر مبنی نظام قائم کیا جائے، بصورت دیگر طلبہ کے حقوق کے لیے بھرپور احتجاجی اور تعلیمی مہم چلائی جائے
