میئر کراچی کے 60 دن کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے، جہانگیر روڈ منصوبہ التوا کا شکار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)
کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کے باعث شہریوں کے لیے شدید مشکلات اور خطرات کا سبب بن گئے ہیں۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے کیے گئے دعوے بھی عملی شکل اختیار نہ کرسکے، جس پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق 14 جنوری کو ایک اہم منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا، جس کے لیے میئر کراچی نے 60 روز کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم یہ مدت گزرنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہوسکا، جبکہ ڈیڈ لائن کو گزرے ہوئے بھی ایک ماہ گزر چکا ہے۔ 23 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ تاحال ادھورا ہے۔دوسری جانب، میئر کراچی نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد پریس کانفرنس کے دوران یہ بڑا دعویٰ بھی کیا تھا کہ متعلقہ سڑک کی ازسرِ نو تعمیر کی جائے گی، جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک مکمل طور پر دوبارہ تعمیر نہیں کی گئی۔ تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس نظر آتے ہیں اور کام کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔علاقے میں ایک سڑک کی تعمیر کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہوا ہے، جبکہ گرومندر سے لیاقت آباد جانے والی سڑک بدستور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں شہری لیاقت آباد سے گرومندر آنے والی سڑک پر رانگ سائیڈ چلنے پر مجبور ہیں، جس سے حادثات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔رات کے اوقات میں اسٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی اور ہیوی ٹریفک کی روانی نے مزید خطرات پیدا کر دیے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید عدم تحفظ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے شروع تو کر دیے جاتے ہیں مگر مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوتے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبوں کو فوری مکمل کیا جائے اور کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے تاکہ شہر میں ٹریفک اور دیگر مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*