
اسلام آباد(25 مارچ 2026): وفاقی حکومت نے صنعتی صارفین کی سہولت اور بجلی کے مؤثر استعمال کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیا اختیاری ‘ملٹی ٹیرف نظام’ متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس نئے نظام کے تحت صنعتی صارفین کو ‘ٹائم آف یوز’ کے تحت مختلف اوقات میں بجلی کے مختلف نرخوں کا اختیار ملے گا۔ اس اسکیم میں فکسڈ چارجز کا تعین صارفین کی زیادہ سے زیادہ طلب کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد صنعتوں کو ‘آف پیک’ اوقات (جب بجلی کی طلب کم ہوتی ہے) میں سستی بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پیک ڈیمانڈ میں کمی آنے سے بجلی کے قومی نظام پر دباؤ کم ہوگا، جبکہ سستی بجلی کی دستیابی سے صنعتی پیداوار اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھنے کی توقع ہے۔ یہ نیا ٹیرف نظام توانائی کی بچت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
پاور ڈویژن نے اس مجوزہ ٹیرف پر صنعتی صارفین اور چیمبرز آف کامرس سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی آن لائن مشاورتی کانفرنس 26 مارچ کو منعقد ہوگی۔
حکام کا ماننا ہے کہ پاور سیکٹر میں کی جانے والی یہ اصلاحات ملک کی طویل مدتی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گی اور صنعتی شعبے کو درپیش توانائی کے مسائل حل کرنے میں مدد دیں گی۔
