
امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک بڑا تزویراتی مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے فوراً بعد پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کا آغاز ہونا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کو اب اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرنی ہوگی کیونکہ موجودہ عالمی کشیدگی نے پوری دنیا کی معیشت کو لپیٹ میں لے لیا ہے؛ حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی معاہدے کو وسعت دے کر اس میں ایران اور ترکیہ جیسے اہم اسلامی ممالک کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں ایک مضبوط اور متحد دفاعی بلاک قائم ہو سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کا اتحاد نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ضمانت بنے گا بلکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جو کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں وقت کی اہم ضرورت ہے۔
