وزیراعظم کا ایک اور فیصلہ: سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین کے استعمال پر پابندی عائد

پابندی کا مقصد مقصد قومی وسائل کےذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے، شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین پیٹرول کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ فیصلے کا مقصد قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور اخراجات میں کمی لانا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سرکاری اخراجات میں کمی اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر ہائی اوکٹین کے استعمال پر پابندی کا مقصد وسائل کو ضائع ہونے سے بچانا اور مالی نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہر سطح پر کفایت شعاری اور ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کو ترجیح دے رہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر فی لیٹر 200 روپے لیوی میں اضافہ کیا تھا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امیر ترین طبقے کی جانب سے استعمال ہونے والے اس فیول پر موجودہ لیوی 100 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت ہوگی، جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا کہ یہ اضافہ صرف لگژری گاڑیوں کے لیے ہائی آکٹین فیول تک محدود ہے اور عام صارفین پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ ہائی آکٹین کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیا تھا اور متعلقہ وزارت کو اس حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*