بحریہ ٹاؤن کراچی کے قریب پولیس وردی میں ملبوس اغوا کاروں نے میرا کرپٹو والٹ خالی کر دیا

کراچی(کرائم رپورٹر/طاہر عباسی)بحریہ ٹاؤن کے قریب سے نوجوان کا اغواء،14 ہزار امریکی ڈالر بٹ کوائن میں منتقل کیے،ملزمان قیمتی موبائل فون اور ایک ملین مالیت کی گھڑی بھی چھین کر لے گئے ،ملیر پولیس لاعلم نکلی۔تفصیلات کے مطابق سپر ہائی وے کے قریب بحریہ کے قریب سے اغوا برائے تاوان کی واردات سامنے آئی نوجوان سے 70 لاکھ روپے مختلف انداز میں وصول کیے،کراچی میں اغوا برائے تاوان کی ایک اور سنگین واردات سامنے آئی ہے، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے یونیفارم میں ملبوس ہو کر ایک نوجوان کو اغوا کر لیا۔نوجوان مانزی کے مطابق واقعہ بحریہ ٹاؤن کے قریب پیش آیا، جہاں سے نکلنے والے نوجوان کو ڈبل کیبن گاڑی میں سوار ملزمان نے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ ملزمان مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردی میں ملبوس تھے، جس کے باعث نوجوان کو شبہ نہیں ہوا۔اطلاعات کے مطابق اغوا کار نوجوان کو شہر کے مختلف علاقوں میں گھماتے رہے اور اس دوران اس سے آن لائن کرنسی کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرواتے رہے۔ ملزمان نے تقریباً سات گھنٹوں کے دوران 70 لاکھ روپے تاوان وصول کیا۔متاثرہ نوجوان مانزی کے مطابق وہ رات تقریباً 9 سے 10 بجے کے درمیان جونہی بحریہ ٹاؤن کے علاقے سے باہر نکلا، اسی دوران ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سوار متعدد افراد نے اس کی گاڑی کو اوور ٹیک کیا۔نوجوان کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اسے زبردستی اس کی گاڑی سے اتارا اور اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں منتقل کر کے اغوا کر لیا۔متاثرہ نوجوان مانزی نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا کہ اغوا کے فوری بعد ہی ملزمان اس کی شناخت سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ نوجوان کے مطابق اغوا کاروں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا:“تو مانزی ہے اور پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں ایک بڑا نام ہے، یہ بتا تیرے ڈالر کہاں ہیں؟”نوجوان کا کہنا ہے کہ ملزمان نہ صرف اس کے نام اور پیشے سے واقف تھے بلکہ انہیں اس کی مالی سرگرمیوں، خاص طور پر آن لائن ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی سے متعلق معلومات بھی حاصل تھیں۔نوجوان مانزی کے مطابق اغوا کاروں نے اس کا موبائل فون اپنے قبضے میں لے کر نہ صرف اس میں موجود ڈیٹا چیک کیا بلکہ مختلف ملکی و غیر ملکی کرپٹو ایکسچینجز بھی کھول کر دیکھیں۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ ملزمان آن لائن ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی کے حوالے سے غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔نوجوان کے مطابق اغوا کاروں کو مکمل علم تھا کہ کس طرح کرپٹو اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور کس انداز میں رقم ٹرانسفر کروائی جا سکتی ہے۔ اسی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے مختصر وقت میں بھاری رقم حاصل کی۔نوجوان مانزی کے مطابق اغوا کاروں نے اس کے اکاؤنٹ میں موجود ڈالرز استعمال کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی خریدی اور بعد ازاں وہ کرپٹو اپنے زیرِ کنٹرول اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کر لی۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ یہ تمام عمل ملزمان نے خود انجام دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور کرپٹو ٹریڈنگ میں مکمل مہارت رکھتے تھے۔نوجوان مانزی کے مطابق، ملزمان نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم منتقل کروانے کے بعد بھی اسے دھمکایا اور مزید رقم حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ متاثرہ شخص کے مطابق اغوا کاروں نے اسے کہا:“اپنے لڑکوں کو کال کر، اور جو تیرے باہر (ملکی و غیر ملکی) ٹریڈرز ہیں ان سے رابطہ کر کے اپنے اکاؤنٹ میں ڈالرز منگوا۔نوجوان مانزی کے مطابق، ملزمان کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے بعد اسے اپنے قریبی روابط سے فوری طور پر رقم کا بندوبست کرنے پر مجبور کیا گیا۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اس نے سب سے پہلے معروف ٹریڈر سعد ارشوانی کو کال کی اور اس سے ڈالرز منگوائے۔مزید برآں، نوجوان نے اپنے ایک دوست ارسلان سے بھی ڈالرز ادھار طلب کیے، جبکہ ملزمان کے دباؤ پر اس نے مزید چار افراد سے بھی رابطہ کر کے رقم اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائی۔نوجوان مانزی کے مطابق، جب اس کے اکاؤنٹ میں مختلف ذرائع سے امریکی ڈالرز جمع ہو گئے تو ملزمان نے فوری طور پر ان ڈالرز کو بٹ کوائن (Bitcoin) میں تبدیل کیا۔ اس کے بعد یہ کرپٹو کرنسی مرحلہ وار اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں منتقل کرتے رہے۔متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ ملزمان پورے عمل کے دوران انتہائی مہارت کے ساتھ کام کرتے رہے، اور انہیں کرپٹو ٹریڈنگ، ایکسچینجز اور فنڈز ٹرانسفر کرنے کے طریقہ کار کا مکمل علم تھا۔نوجوان مانزی کے مطابق، اغوا کے بعد ملزمان نے ابتدائی طور پر 5 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اسے مختلف مقامات پر گھماتے ہوئے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا اور رقم کے حوالے سے بات چیت جاری رہی۔بیان کے مطابق، وقت گزرنے کے ساتھ ملزمان نے تاوان کی رقم کم کر کے 2 لاکھ امریکی ڈالر کر دی، تاہم اتنی بڑی رقم فوری طور پر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں وہ مسلسل دھمکیاں دیتے رہے اور مزید پیسے کا بندوبست کرنے پر مجبور کرتے رہے۔نوجوان مانزی کا مزید بتانا تھا کہ رقم نہ دینے کی صورت میں ملزمان اسے مسلسل قتل کی دھمکیاں دیتے رہے۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اغوا کے دوران اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا گیا تھا، جس کے باعث وہ کچھ دیکھ نہیں سکتا تھا.نوجوان کے مطابق ملزمان بار بار اسلحہ چیمبر میں لوڈ اور پھر ان لوڈ کرتے رہے، اور اس عمل کی آوازیں سن کر وہ شدید خوف و ہراس کا شکار رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ ہر لمحہ اسے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوتا رہا اور یہی دباؤ ڈال کر ملزمان اس سے رقم منتقل کرواتے رہے۔نوجوان مانزی کے مطابق، ملزمان نے ڈیجیٹل کرنسی کے تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرندی کے اکاؤنٹ سے پی ٹو پی (P2P) ٹرانزیکشن کرائی۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 14 ہزار ڈالر بٹ کوائن خریدے گئے اور انہیں اپنے ڈیجیٹل ایکسچینج اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا۔ساتھ ہی، ملزمان نے دو لوکل بینک اکاؤنٹس سے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے PIN کوڈ حاصل کر کے تقریباً چار لاکھ روپے نقد بھی نکالے۔ نوجوان کے مطابق یہ سب کارروائیاں ملزمان نے انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دی، تاکہ رقم کو فوری اور مؤثر طریقے سے اپنے قبضے میں لے سکیں۔ملزمان نے اس کی رقم استعمال کرتے ہوئے تقریباً 13 ہزار امریکی ڈالر کے بٹ کوائن خریدے اور بعد میں انہیں اپنے ڈیجیٹل ایکسچینج اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا۔ذرائع کے مطابق ملزمان نے یہ کارروائی اس مقصد کے لیے کی تاکہ رقم کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے اور وہ فوری طور پر اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔نوجوان کے مطابق، اغوا کاروں نے واردات مکمل کرنے کے بعد تقریباً سات لاکھ روپے مالیت کا موبائل فون اور دس لاکھ روپے مالیت کی گولڈن نوواڈو واچ بھی اپنے قبضے میں لے لی۔ماہر تفتیشی افسر کے مطابق، یہ اضافی چھینت و لوٹ مار اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملزمان نہ صرف منظم اور ٹیکنیکل مہارت کے حامل تھے بلکہ ہر ممکن طریقے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔نوجوان کے مطابق، اغوا کاروں نے آخر میں سنگین قتل کی دھمکیاں دیں اور اس پر مسلسل واردات کے بارے میں خاموش رہنے کی تنقید کی۔ نوجوان کو اغوا کے بعد سہراب گوٹھ کے ایک مقام پر اتارا گیا، جہاں اسے پانچ ہزار روپے نقد دیے گئے اور بتایا گیا کہ اس کی گاڑی بحریہ ٹاؤن کے قریب عثمانیہ کے مقام پر پارک ہے۔نوجوان نے مزید بتایا کہ وہ ٹیکسی کے ذریعے اپنی گاڑی تک پہنچا اور بعد ازاں گھر واپس آیا۔ افطار کے بعد نوجوان نے فیصلہ کیا کہ وہ اس واردات اور ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے رقم منتقل کرنے والی ماہر اغوا کار ٹیم کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے دیگر نوجوانوں اور آن لائن ٹریڈرز کو آگاہ کرے، تاکہ وہ اپنی مالی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی مضبوط کر سکیںنوجوان کے مطابق، اغوا کاروں نے تقریباً ایک ہزار ڈالر ٹرانسفر کیے، اور تقریباً تیرہ ہزار ڈالر کی کرپٹو کرنسی خرید کر اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ اس دوران ملزمان نے اس سے سات لاکھ روپے مالیت کا موبائل فون اور دس لاکھ روپے مالیت کی گولڈن نوواڈو واچ بھی چھین لی۔نوجون کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر کرپٹو ٹریڈنگ کے دوران اپنے ساتھ سیکیورٹی گارڈ رکھتا ہے، لیکن اس واردات کے وقت اتفاقاً سیکیورٹی گارڈ اس کے ساتھ موجود نہیں تھے۔ متاثرہ نوجوان بحریہ ٹاؤن سے اپنے گھر جا رہا تھا جب اغوا کاروں نے اسے اغوا کیا۔مانزی نے کرپٹو ٹریڈنگ اور آن لائن مالیاتی سرگرمیوں سے وابستہ نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے کاروبار کے دوران اور نقل و حرکت کے وقت ہمیشہ سیکیورٹی گارڈ یا حفاظتی اقدامات کے ساتھ رہیں تاکہ اس طرح کے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔مانزی نے اپنے ساتھیوں اور دیگر ٹریڈرز سے شیئر کیا کہ کاروبار کے دوران ایک الگ موبائل فون کا استعمال کریں تاکہ اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ رکھا جا سکے اور ہر ممکن حفاظتی اقدام اپنایا جائے۔ اس نے بتایا کہ ایک سال قبل اس کے بھائی کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی واردات پیش آئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر مسلسل اور منظم انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔مانزی نے زور دے کر کہا کہ کراچی شہر میں اغوا کی وارداتوں میں انتہائی ماہر اور منظم گینگ متحرک ہیں، جو نہ صرف مالیاتی اور ڈیجیٹل مہارت رکھتے ہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ اور جسمانی خطرات کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*