
(09 مارچ 2026): کراچی ملک کا وہ شہر ہے جو ایک طرف اگر ریاستی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے معاشی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے، تو دوسری طرف اپنے انتہائی متنوع آبادی، بے تحاشا سلم ایریاز اور بے ہنگم تعمیرات کے باعث انتظامی طور پر ملک کا مشکل ترین شہر بھی یہی ہے۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس نے اس مسلسل بے ترتیب طور پر پھیلتے شہر کو محکمہ پولیس کے لیے ملک کے کسی بھی دوسرے شہر کی نسبت سب سے بڑا چیلنج بھی بنا کر رکھا ہوا ہے۔
اگر کراچی جیسے شہر میں آپ کو انفرااسٹرکچر میسر نہ ہو، تو اس کا اثر براہ راست جرائم کی شرح اور امن و امان کی صورت حال کے کنٹرول پر پڑتا ہے۔ مسلسل بدلتے آئی جی سندھ ہوں یا کراچی پولیس چیف، بہ طور محکمہ ان افسران نے سیاسی و انتظامی مشکلات کے باوجود ہمیشہ اس شہر کے امن و امان کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران ان پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے اور تعریف بھی۔
کراچی جیسے شہر میں پولیس پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کا دباؤ بھی ہمیشہ رہتا ہے، کیوں کہ یہ شہر کرپٹ اہلکاروں اور افسران کی ایک تشویش ناک تعداد کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہا ہے، اگرچہ صورت حال دیگر شہروں کی بھی ایسی ہی رہی ہے۔ تاہم اگر ہم تقابل کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی پولیس میں اصلاحات کی طرف لاہور کی نسبت تاخیر سے توجہ دی جاتی رہی ہے۔ ایسی اصلاحات میں سے ایک، پولیس تھانوں کی صورت حال میں تبدیلی لانا بھی شامل ہے۔ ماضی میں آئی جیز نے شہر کے تھانوں کی صورت حال بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں، اور تھانوں کے روایتی تصور کو بدلنے کے لیے ماڈل تھانوں کا تصور رائج کرنے کی پریکٹس کی گئی۔

آج اگر شہر کے تھانوں کی صورت حال پر نظر ڈالیں تو یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا پولیس تھانے اپنے روایتی تصور سے آزاد ہو کر ’’عوام دوست‘‘ ہو گئے ہیں یا گزشتہ پولیس چیفس کے ادوار کی پریکٹس بے کار چلی گئی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے سسٹم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے کرپٹ افسران ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ چناں چہ شہر کے کچھ تھانے مرکزی مقامات پر ہونے کے سبب کسی نہ کسی سطح پر کچھ بہتر ماحول رکھنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ایک اور عجیب پیٹرن بھی دکھائی دیتا ہے۔
اس پیٹرن کو سمجھنے کے لیے اسے مضافاتی تھانوں کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ ان تھانوں کے اندر کی صورت حال بالکل وہی ہوتی ہے جیسا کہ شہریوں میں پولیس کا خوف ناک تصور رائج رہا ہے۔ یہاں شہریوں کے ساتھ وہ سلوک آج بھی روا رکھا جاتا ہے جو نو آبادیاتی آقا اپنے غلاموں کے ساتھ روا رکھتے رہے ہیں۔ شہری ان تھانوں میں داخل ہوتے وقت ایسے ’’داروغہ‘‘ کا سامنا کرتے ہیں جس کا کام انھیں بھگانا، ٹرخانا اور ڈرانا ہوتا ہے۔ ماضی میں آئی جی سندھ نے اس مسئلے پر خاص طور پر توجہ دے کر ایسے داروغہ گیری پر پابندی لگا دی تھی، جو بعد میں کسی بہانے بے اثر کر دی گئی۔
اس خاص پیٹرن کے تھانوں میں مومن آباد، پیر آباد اور سائٹ تھانوں کے علاوہ کراچی ڈسٹرکٹ ملیر کا اسٹیل ٹاؤن، بن قاسم، میمن گوٹھ، ابراہیم حیدری تھانے بھی شامل ہیں، جہاں آنے والے سائلین کی جانب سے یہ شکایت عام ہے کہ کسی بھی وارادت کی صورت میں مقدمے کے اندراج میں پولیس ٹال مٹول سے کام لیتی ہے۔
ایسی ہی صورت حال ڈسٹرکٹ ایسٹ کے سچل، سائٹ سپر ہائی وے اور سہراب گوٹھ تھانے میں بھی دیکھی گئی جہاں پولیس وارداتوں کو کم دکھانے کے غرض سے مقدمہ درج نہیں کرتی۔ اگر وارادت میڈیا میں ہائی لائٹ ہو جائے تو اس کے بعد بھی جائے واردات کے معائنہ سے لے کر مقدمے کے اندراج تک متاثرہ شہری کو طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ تھانہ سائٹ سپر ہائی وے کے کچھ کیسز ایسے بھی ہیں جس میں واردات سے متاثرہ شہری سے مقدمے کے اندراج کے لیے رشوت طلب کرنے کی شکایت بھی سامنے آ چکی ہے۔
موجودہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو بھی ایک پر عزم پولیس سربراہ ہیں۔ عین ممکن ہے شہر کے بے تحاشا مسائل میں اس مسئلے کی طرف ابھی ان کی توجہ نہ گئی ہو، لیکن یہ ایک ایسا انتظامی مسئلہ ہے جو اگر درست طور پر حل کیا جائے تو نہ صرف عوام کی طرف سے اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے، بلکہ متعلقہ علاقوں میں جرائم کے کنٹرول میں ان تھانوں کی طرف سے ایک قابل قدر حصہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ یعنی شہر کے اگر تمام تھانے مل کر ایک سمت میں ایک پالیسی کے تحت عمل کریں گے تو بہتری کے امکانات یقیناً بڑھ سکتے ہیں۔
اس وقت مذکورہ تھانوں کے علاقوں کی صورت حال نہایت غیر تسلی بخش ہے۔ ان علاقوں میں دو بڑے مسائل موجود ہیں، ایک منشیات فروشی اور دوم چوری ڈکیتی۔ کئی علاقوں میں یہ دونوں ساتھ ساتھ پلتے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ملیر کے تھانے قائد آباد، ڈسٹرکٹ کیماڑی کے تھانے پاک کالونی، ویسٹ کے تھانے منگھوپیر اور ڈسٹرکٹ سٹی کے تھانے چاکیواڑہ اور کلاکوٹ کی حدود ایسی ہے جہاں منشیات فروشوں کا گڑھ ہوتا ہے، منشیات فروشی کھلے عام ہو رہی ہے اور ساقی خانے بھی قائم ہیں۔ ان ساقی خانوں میں نشے کے عادی افراد کو رقم کے عوض منشیات اور نشہ کرنے کے لیے جگہ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہیں سے منشیات خریدنے والے کراچی کے دیگر علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کرتے ہوئے بھی پکڑے جا چکے ہیں۔

ماضی میں ڈسٹرکٹ سینٹرل سے پولیس ایسے گروہ بھی پکڑ چکی ہے جو نشے کی لت پوری کرنے کے لیے وارادتیں کرتے تھے اور نشے کی ہی حالت میں شہر کے اندر لوٹ مار کرتے تھے۔ منشیات فروشی کے اڈوں سے بھرے ان بدنام زمانہ علاقوں میں پولیس موبائلیں ہفتہ وار جاتی دکھائی دیتی ہیں اور اہلکار اپنا حصہ جمع کرتے نظر آتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ پولیس حکام تب تک اس طرف متوجہ نہیں ہوتے جب تک کوئی ویڈیو سامنے نہیں آتی، یعنی محکمے میں آج تک ایسا کوئی نظام ممکن نہیں ہو سکا ہے یا ممکن ہونے نہیں دیا گیا ہے جو خود کار طور پر کالی بھیڑوں کا سد باب کرتا رہے۔
مومن آباد تھانے کی حدود میں واقع سبزی بازار اور علاقے میں کئی مقامات پر دکانوں سے باقاعدہ وصولی کی جاتی ہے، دکان دار شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح پیر آباد تھانے کی حدود میں منشیات فروشوں کو پولیس اہلکاروں کی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ سیوڑھی بابا مزار کے علاقے کا سماجی ماحول اس گٹھ جوڑ کے باعث بہت آلودہ ہو چکا ہے، اور جہاں پولیس کا کام شہریوں کے تحفظ کا ہوتا ہے وہاں ان کی وجہ سے سماجی ماحول خراب ہو گیا ہے۔
شہری اپنے جان و مال اور ماحول کے تحفظ کے لیے بجا طور پر محکمہ پولیس کی جانب دیکھتی ہے، لیکن اکثر وہیں سے ان کے تحفظ کو لاحق خطرات سے سامنا ہوتا ہے، ایسے میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے امید کی جاتی ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ان مضافاتی ماحول والے تھانوں کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائیں گے، بالخصوص جب رمضان بھی ہے اور ان تھانوں کے اہلکار اپنے علاقوں میں شہریوں کو اضافی طور پر آتے جاتے راستوں پر پریشان کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔
