
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج، افغان طالبان رجیم گٹھ جوڑ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اس دوران انہیں عسکری قیادت نے صورت حال پر مفصل بریفنگ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم، فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملکی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔
اب سے کچھ دیر قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو جیسا رسپانس ملنا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی دیا ہے، جیسے معرکہ حق میں پوری قوم بنیان مرصوص بن کر کھڑی تھی یہی مناظر کل بھی دیکھے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منہ توڑ جواب میں 274 خوارج ہلاک400 سے زائد زخمی ہوئے، افغان طالبان رجیم کی 73 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی جاچکی ہیں، طالبان رجیم کی 18 پوسٹوں پر قبضہ کیا جاچکا ہے، دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ اور قبضہ کرلی گئی ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان طالبان چھوٹے بڑے ہتھیار اور کواڈ کاپٹر بھی لے کر آئے، جہاں جہاں سے حملہ ہوا پاک فوج پاک فوج نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا ،جو دہشت گرد سہولت کاری کرتے ہیں انہیں چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ کابل، قندھار، پکتیا، خوست، پکتیکا میں 22 فضائی ٹارگٹ بیسڈ آپریشن کیے، ٹارگٹڈ بیسڈ آپریشن میں ان علاقوں میں کوئی بھی سویلین نہیں مارا گیا، بریگیڈ، بٹالین ہیڈ کوارٹر سیکٹر ہیڈ کوارٹر، اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں بزدل افغان طالبان اپنی چیک پوسٹ اور لاشیں چھوڑ کر بھاگے، دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اب تک 12 سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، آپریشن میں 27 جوان زخمی ہوئے اور ایک جوان مسنگ ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے آگے پیچھے، دائیں بائیں اقوام پاکستان کھڑی ہے۔
