
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن الزامات لگانے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے پولیس کو انہیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج ہے اور عدالت میں مسلسل عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ یہ صورتحال صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان قانونی و سیاسی تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے کیونکہ ایک موجودہ وزیراعلیٰ کے خلاف اس نوعیت کے عدالتی احکامات انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں۔
