
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پانی کی عدم فراہمی کے کیس کی سماعت کے دوران واٹر کارپوریشن کے حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک حکم دیا ہے کہ شہر میں ٹینکر سسٹم فوری بند کیا جائے اور لوگوں کو پائپ لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، کیونکہ عدالت کا ماننا ہے کہ اگر ٹینکرز کے پاس پورے شہر کو سپلائی کرنے کے لیے پانی موجود ہے تو وہی پانی لائنوں کے ذریعے گھروں تک کیوں نہیں پہنچ رہا۔ جسٹس عدنان کریم میمن نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پرانی لائنوں جیسے بہانوں کو مسترد کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کریں اور درخواست گزار کے گھر تک فوری پانی پہنچائیں، جبکہ عدالت نے متنبہ کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حق کی پامالی پر واٹر کارپوریشن کے خلاف سخت فیصلہ سنایا جائے گا تاکہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا کے بجائے قانونی نظام کو بحال کیا جا سکے۔
