
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچنے والا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے چیئرمین پی سی بی کو منانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے وائس چیئرمین لاہور پہنچ کر پی سی بی کے چئیر مین اور دیگر بورڈ حکام سے ملاقاتیں کریں گے جہاں عالمی کرکٹ بورڈ دونوں ممالک کے درمیان میچ کی ممکنہ بحالی کے لیے کوشش کرے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے وائس چیئرمین کو خصوصی طور پر یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیر مین سے بات چیت کے ذریعے پاک بھارت میچ کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔
آئی سی سی وفد کے دورے کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں شیڈول میچ کے بائیکاٹ کے خطرے کو ختم کرنا اور دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفد چئیر مین پی سی بی اور بورڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کرے گا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہ امین الاسلام بھی لاہور پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ہنگامی میٹنگ میں شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق بی سی بی کے سربراہ امین الاسلام کی پی سی بی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ملاقات میں ٹی 20 ورلڈ کپ کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں قیام کے دوران امین الاسلام اور پاکستانی حکام کے درمیان باہمی کرکٹ تعلقات، مستقبل کی دو طرفہ سیریز اور دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ مختلف اجلاسوں اور ملاقاتوں میں شرکت کریں گے، جبکہ وہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کے ہمراہ آئی سی سی کی میٹنگ میں آن لائن شرکت بھی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق امین الاسلام آج شام لاہور سے ڈھاکا واپس روانہ ہوں گے۔ بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر کے دورۂ لاہور کو دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ میں آکر انہیں اسکواڈ سے ریلیز کردیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے مقام تبدیل کرنے کی درخواست آئی سی سی میں کی گئی تھی۔
بنگلہ دیش نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں جس پر آئی سی سی نے بی سی بی کی درخواست مسترد کردی تھی اور بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا تھا۔ اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی بھرپور حمایت کی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کا ساتھ دیتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں یکم فروری کو پاکستانی حکومت نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی لیکن بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا۔
