ریگا-فیڈ ڈیزیز: جب نومولود کے دانت تکلیف کا باعث بن جائیں

تحریر: ڈاکٹر زاہرہ افتخار


کل کی بات ہے دوپہر تین بجے کے بعد کی، او پی ڈی (OPD) خالی ہوچکی تھی، تقریباً تمام ڈاکٹرز جاچکے تھے یا بس نکل رہے تھے۔ میں بھی اندر والے کمرے میں تھی اور میری پوائنٹ بس کے چلنے کا وقت ہونے والا تھا تو میں بھی بس نکلنے کی ہی کر رہی تھی کے کمرے میں آواز آئ جس کو میں پہچانتی تھی یے آواز ریسیپشن(Reception ) والے ایک اسسٹنٹ (assistant) کی تھی انہوں نے پوچھا کے کوئ سینیر ریزیڈینٹ ہے کیا اور ساتھ ہی کسی عورت کے رونے اور کسی دوسری عورت کے اس عورت کو تسلی دینے کی آواز تھی۔ یے سن کر میں کمرے سے باہر نکل آئ۔ مجھے دیکھ کر اسسٹنٹ نے بولا ڈاکٹر زاہرہ اس بچے کی زبان کٹی ہوئ ہے دانتوں سے۔ پھر ان میں سے ایک ادھیڑ عمر عورت دوسری عورت کی طرف اشارہ کرکے بولی جس کی گود میں ایک چھوٹا بچہ تھا اور وہ روئے جا رہی تھی، کہنے لگی اس کا بچہ تیس دن کا ہے اور اس کے منہ میں دانت ہیں اور دانتوں سے زبان کٹ گئ ہے، دانتوں کی وجہ سے بچہ دودھ نہیں پی رہا ہے دودھ نہیں پیے گا تو مر نہیں جائے گا۔ یے عورت اس بچے کی نانی یا دادی تھی اور جس کی گود میں بچہ تھا وہ ماں تھی جو بس خاموشی سے بچہ گود میں لیے سپکیوں سے رو رہی تھی۔ دوسری عورت نے پھر مجھ سے کہاں ہم کتنی جگہ گھوم گھوم کے آئے ہیں اس کا کچھ علاج کرو۔ میں نے کہاں ٹھیک ہے اماں اس کے دانت نکال دیتی ہوں ابھی۔ میں نے انہیں اندر او پی ڈی میں ایک یونٹ پر بیٹھنے کو کہاں اور او پی ڈی کے اسسٹنٹ کو دانت نکالنے کے لیے سامان رکھنے کا کہاں۔ جب میں یونٹ پر گئ تو اس بچے کی نانی/ دادی اس کو گود میں لے کر بیٹھی تھی کہنے لگی ماں کی اتنی ہمت نہیں کے اسکا کام کروائے اس لیے میں گود میں لے کر بیٹھی ہوں، اس کا تو حوصلا نہیں۔ میں نے سامنے دیکھا تو اس بچہ کی ماں دور کھڑی روئے جارہی تھی۔ پھر میں نے بچے کی طرف دیکھا وہ زور زور سے رو رہا تھا میں نے جیسے ہی دانت اور زبان کا زخم دیکھنے کے لیے بچے کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ میری انگلی کو چوسنے کی کوشش کرنے لگا پتا لگتا تھا کے بچے نے دودھ نہیں پیا اور وہ کافی وقت سے بھوکا ہے۔ اس بچے کے منہ میں نیچے والے جبڑے میں دو دانت تھے جو نوکیلے تھے اور ان نوکیلے دانتوں نے زبان کے نچلے حصے پر ایک بہت بڑا اور گہرا زخم بنا دیا تھا۔
میں نے جلدی سے سن کرنے والا جیل اس کے مسوڑوں میں لگایا اور ایک اوزار سے پکڑ کر دونوں دانت نکال دیے پھر روئ سے خوب دبا کر خون روکا اور زخم بند کیا۔ پھر دوائ اور ہدایت سمجھا دی۔ وہ عورت مجھے اس سارے وقت میں دعائیں دیتی رہی اسکی دعائیں تھی کے رک ہی نہیں رہی تھی۔ پھر وہ شکریہ اور دعائیں دے کر او پی ڈی سے چلی گئ۔ اب جب میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو وقت کافی گزر گیا تھا، دانت نکالنے میں تو صرف تین منٹ لگے تھے لیکن اس سارے واقعے میں وقت کافی گزر گیا تھا۔ مجھے پتا تھا میری پوائنٹ بس کیا یونیورسٹی کی ساری پوائنٹ بسیں جاچکی ہوگی۔ جب میں نے دو عورتوں کی پریشانی سن کر اس بچے کے دانت نکالنے کا فیصلہ کیا اس وقت میرے زہن میں آگیا تھا کے اس کو وقت دیا تو پوائنٹ بس نکل جائے گی لیکن میں نے اس بات کی پروا نہیں کی کیونکہ میرے لیے ان دو عورتوں اور اس بچے کی تکلیف زیادہ اہم تھی اور پھر میرا گھر ہسپتال سے نزدیک ہے تو میں نے سوچا خود چلی جاؤ گی۔ جب میں سارے کام کے بعد او پی ڈی سے باہر نکالی میں نے مشین پر جاتے وقت کا انگوٹھا لگایا تو سامنے ریسیپشن والے اسسٹنٹ نے کہا بہت شکریہ آپ کا اللّٰہ آپ کو اس کی جزا دے گا۔ چونکہ مجھے اب خود ہی جانا تھا تو ہسپتال کے گیٹ تک جانے کے لیے پیدل چلنا شروع کیا میں تھوڑی دور گئ تو دیکھا فٹ پاتھ کے ساتھ بنے گارڈن میں، جہاں فٹ پاتھ اور گارڑن مل رہے تھے بلکل وہی مجھ سے ذرا دور وہ دو عورتیں بیٹھی تھی، میں فٹ پاتھ پر کھڑی انکو دیکھنے لگی وہ دونوں عورتیں گھاس پر بیٹھی تھی اور اب بچہ ماں کی گود میں تھا اور وہ اسکو دودھ پلا رہی تھی اور بچہ بھی سکون سے دودھ پی رہا تھا یے دیکھ کر میرے دل کو جو سکون اور خوشی ملی وہ میں یہاں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں انہیں دیکھ رہی تھی کے ان دونوں کی نظر بھی مجھ پر پڑی اور دونوں مسکرانے لگی اور پھر دعائیں دینے لگی۔ وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر تھی تو میں نے ذرا زور آواز میں سوال کیا کے بچہ کا کیا نام رکھا؟ تو اسکی ماں مسکرا کر بولی "فرشتہ”۔ حیرانی سے میرے منہ سے نکلا جی؟ تو اسکی ماں نے پھر دھرایا: "فرشتہ نام رکھا ہے، آج سے اسکا نام فرشتہ”! اس کے الفاظ سن کر میں کچھ سیکنڈ حیران نگاھوں سے اسکو دیکھا اور وہ مجھے دیکھ کر مسکراتی رہی۔ پھر میں بھی مسکرا دی اور وہ دونوں بھی۔ میں نے پھر اپنا سفر شروع کیا اور گیٹ پر پہنچ کر میں نے گیٹ سے رکشہ کیا لیکن تھوڑی ہی دور چلنے کے بعد دیکھا کے آگے روڈ پر کافی گاڑیوں کا رش ہے اور بہت سی گاڑیاں پلٹ رہی ہے پتا چلا کے آگے روڈ کسی وجہ سے بلاک ہے، رکشہ والے نے یے دیکھ کر وہی مجھے سڑک کے کنارے اتار دیا کے وہ نہیں جائے گا آگے لہذا مجھے اترنا پڑا اور کوئ رکشہ نہیں جاسکتا تھا تو مجبوراً مجھے پیدل ہی چلنا پڑا۔ کافی دور پیدل چلنے کے بعد میں ایک موڑ پر پہنچی جہاں سے اب راستہ صاف تھا اور روڈ بلاک نہیں تھا وہاں سے میں نے پھر گھر کے لیے ایک رکشہ کیا جس نے مجھے گھر پہنچایا۔ میری کافی خواری ہوگئ تھی بہت دیر تک دور تک پیدل چلنے سے اچھے موسم میں بھی میرا سانس پھول گیا تھا اور میں پسینوں میں بھیگ گئ تھی۔ گھر پہنچی تو کافی دیر ہوگئ تھی۔ مجھے دیر ہوئ میں نے مشکل اٹھائ لیکن میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اور خوشی تھی، میں خود کو بہت الگ محسوس کر رہی تھی۔ کافی دیر تک میرے کانوں میں اس بچے کی ماں کے الفاظ گونجتے رہے کے فرشتہ نام رکھا ہے، آج سے اسکا نام فرشتہ۔ یے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے اور میرے دل کو سکون اور خوشی دیتے رہے۔
میں نے بے شک اپنی پوائنٹ بس مس کی، گھر دیر سے پہنچی اور راستے کی پریشانی کاٹی لیکن مجھے سکون اور خوشی اس بات کی تھی کے میں نے کچھ بہت قیمتی کما لیا۔ میرے علم اور ہنر سے کسی ماں اور اس کے بچے کی تکلیف دور ہوئ اور اللّٰہ نے مجھے کسی کی تکلیف دور کرنے اور اس کو سکون دینے کا ذریعہ بنایا اور بدلے میں مجھے جو عزت اور دعا ملی میرے لیے یے بہت بڑی خوشی تھی، میرے دل، روح اور ضمیر کا سکون تھی اور ایسی خوشی اور سکون ملنا بڑی نعمت اور قیمتی دولت ہے۔ میں نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا کے اسنے مجھے اس قابل کیا اور نیکی میرے حصے میں آئی۔
اس بچے کو جو بیماری تھی اسکو میڈیکل کی زبان میں ریگا فیڈ ڈیزیز (Riga Fede Disease) کہتے ہیں، یے وہ صورتحال ہوتی ہے جب بچے کے منہ میں پیدائشی دانت جن کو میڈیکل میں نیٹل ٹیتھ (natal teeth) یا پیدائش کے کچھ دن بعد جیسے تیس دن میں بچے کے منہ میں دانت آنا جس کو نیو نیٹل ٹیتھ (New natal teeth) کہتے ہیں، ایسے دانت کا آنا یا موجود ہونا۔ اس میں نیچے والے جبڑے میں ایک یا دو آگے کے دانت موجود ہوتے ہیں جو نوکیلے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جب یے نوکیلے دانت بچے کی زبان کے نچلے حصے پر یا نیچے والے ہونٹ پر لگتے ہیں تو زبان یا ہونٹ پر گہرا زخم بنا دیتے ہیں جو بچے کو تکلیف دیتا ہے۔ ان دانتوں کی وجہ سے بچے کو دودھ پینے میں دشواری ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچہ دودھ نہیں پیتا اور اسکی غذا اور صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس کا علاج یہی ہوتا ہے کے بچے کے وہ دانت نکال دیے جائے، یے دانت چھوٹے ہوتے ہیں، ان دانتوں کی جڑ بھی چھوٹی اور کمزور ہوتی ہے اس لیے یے با آسانی نکال دیے جاتے ہیں۔ ان دانتوں کو نکلوانے کے لیے بچوں کو ڈینٹل سرجن یا منہ اور جبڑے کے سرجن کو دیکھانا چاہئے۔ ان دانتوں کو نکالنے کے بعد زبان یا ہونٹ پر بنا زخم تقریباً چار ہفتوں میں بھر کر ٹھیک ہو جاتا ہے۔
بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کے وہ بچے جن کے منہ میں پیدائشی یا پیدائش کے کچھ دن بعد منہ میں دانت نکل آتے ہیں ایسے بچے منحوس یا بد قسمت ہوتے ہیں، ان بچوں کے بارے میں ایسی بات سوچنا، کہنا یا ایسے بچوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا غلط ہے۔ بچے معصوم فرشتہ ہوتے ہیں اس لیے اللّٰہ کی تخلیق کو منحوس یا بد نصیب کہنا اور سمجھنا جائز نہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*