سانحہ قلات کے چشم دید گواہ کی گفتگو، ’نیند کی حالت میں رضا صابری دنیا سے چلاگیا‘

ڈرائیور نے بہادری کا مظاہرہ دکھایا، دو گولیاں لگنے کے باوجود گاڑی کو کچے میں اتار دیا، شہید قوال کے بھائی کی گفتگو

کراچی: سانحہ قلات میں صابری قوال گروپ پراندھا دھند فائرنگ کے دوران مسافربس کےآٹومیٹک ڈورزدہشت گردوں کی راہ میں ڈھال بن گئے۔

بدھ کی صبح مارٹن کواٹرزجمشید روڈ سے خصوصی کرائے پرحاصل کردہ بس میں روانہ ہونے والے ماجد علی قوال کے21رکنی گروپ کوقطعی طورپراس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ منزل مقصود کےعین قریب وہ لوگ قیامت صغریٰ سے ملتے جلتے حالات کا شکارہوجائیں گے۔

ایکسپریس نیوزسے خصوصی گفتگومیں ماجد علی صابری قوال گروپ کے اہم رکن اورواقعے کے چشم دید گواہ ندیم علی صابری کا کہنا تھا کہ وہ صبح 8بجےٹیم کے ہمراہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔

باقی ماندہ سفرتومعمول کے مطابق گزرا مگر برے لمحات کا آغازاس وقت ہواجب وہ خضدارپرکھانا کھانے کی غرض سے بس سے اتر۔

اس دوران دوسے تین لوگ بس میں سورہے تھے،ہوٹل پراس وقت کافی رش تھا، وہ بھی معمول کےمطابق کھانا کھانے کے بعدایک دوسرے سے گپ شپ کرتے رہے،مگرانھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کوئی آنکھ ایسی بھی ہے جوانھیں دیکھ رہی ہے یا گھوررہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کھانے کے بعد جب ہم دوبارہ بس میں سوار ہوئے توکچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اچانک انھیں دھماکے کی آوازسنائی دی انھیں لگاکہ شائد بس کا ٹائرپھٹ گیا ہے مگراس دھماکے کے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ شروع ہوئی۔

انھوں نے بس کے شیشوں میں سے دیکھا کہ ڈھاٹے باندھے اسلحہ برادرمسلسل بس کی جانب انتہائی قریب سے فائرنگ کررہے ہیں، فائرنگ کے دوران بیشترلوگوں نے بس کے فرش پرلیٹ کرجانیں بچائیں۔

ندیم صابری کے مطابق وہ اس وقت ڈرائیور سیٹ کے عین پیچھے موجود تھے، بس کے ڈرائیور کو ایک  گولی بازو اور دوسری پاؤں پر ماری گئی مگر اس کے باوجود اس نےانتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائرنگ کے دوران بس کا رخ کچے کی جانب موڑدیا اورایک نشیبی مقام پربس ایک درخت سے ٹکراکررک گئی۔

اس اندوہناک سانحے میں ماجد علی صابری کے بڑے بھائی احمد علی صابری اوران کا بیٹا رضا علی صابری اورگروپ کے گٹارسٹ آصف ملک کی شہادت ہوئی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*