
پوری کراچی کو ایک سنٹر پر لا کر ذلیل کیا جا رہا ہے، سندھ حکومت صرف نمائشی فیصلوں میں مصروف ہے
کراچی: پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما رامش عظیم نے سندھ حکومت اور پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اجرک نمبر پلیٹ” کے نام پر کراچی کے شہریوں کو بے انتہا اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ شہری ایک طرف نمبر پلیٹ لینے کے لیے لمبی قطاروں میں خوار ہو رہے ہیں، اور دوسری طرف سڑکوں پر پولیس کی جانب سے چالان اور رشوت طلبی کا شکار بنائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ایک میگا سٹی ہے جہاں سات اضلاع موجود ہیں، لیکن حکومت نے ساری عوام کو صرف سوک سینٹر جیسے ایک ہی مقام پر نمبر پلیٹ کے حصول کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ کیا یہی سہولت ہے؟ کیا یہی گڈ گورننس ہے؟ عوام کئی کئی گھنٹے لائنوں میں لگے ہوتے ہیں، اور پھر بھی انہیں نمبر پلیٹ نہیں ملتی۔
حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ہر ضلعے میں باقاعدہ فسیلیٹیشن سینٹر قائم کرتی، تاکہ عوام کو اُن کے قریبی علاقوں میں سہولت میسر آتی۔ لیکن یہاں تو الٹا عوام کو خوار کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے ہر چوک اور ناکے پر رشوت، بلیک میلنگ اور چالانوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ایک ایسی نمبر پلیٹ کے نام پر جسے بنوانے کے لیے عوام کو نہ مناسب وقت دیا گیا، نہ سہولتیں فراہم کی گئیں۔
رامش عظیم نے حکومت سندھ سے پرزور مطالبہ کیا کہ:
ہر ضلع میں فوری طور پر نمبر پلیٹ فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں۔
پولیس کو غیر قانونی چالان اور رشوت ستانی سے روکا جائے۔
عوام کو ایک مناسب مدت دی جائے تاکہ وہ پرسکون انداز میں اپنی نمبر پلیٹس حاصل کر سکیں۔
اس نمائشی منصوبے کو شفاف، سہل اور عوام دوست بنایا جائے، نہ کہ عوام دشمن۔
انہوں نے کہا کہ "پاکستان تحریک انصاف ہر اس فیصلے کی مخالفت کرے گی جو عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلنے کے لیے کیا جائے۔ عوام کو سہولت دینا حکومت کا فرض ہے، نہ کہ انہیں لائنوں میں ذلیل کرنا۔
