
کراچی (قومی اخبار) ادارہ امراضِ قلب کراچی (NICVD) میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا، جس میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیرجانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ معاملے کی شفاف چھان بین ممکن ہو سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013 سے 2024 کے دوران ادارے کا بجٹ غیرمعمولی طور پر کئی گنا بڑھایا گیا۔ اس عرصے کے دوران جدید مشینری، مہنگی ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے نام پر اربوں روپے کی مبینہ کرپشن سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ سمیت متعدد بااثر افراد کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 18، 19 اور 20 کے کم از کم 20 افسران کے خلاف تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے-
رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سرکاری افسران، بالخصوص گریڈ 20 کے عہدیدار، کرپشن کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ محکمہ صحت، پیرا میڈیکل اسٹاف، اور اسپتال کے اعلیٰ حکام پر مشتمل پانچ رکنی غیرجانبدار کمیٹی قائم کی جائے تاکہ الزامات کی آزادانہ اور شفاف جانچ ہو سکے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ادارہ امراضِ قلب کے موجودہ اور سابقہ سربراہان کی بیرونِ ملک جائیدادوں کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ مالی بدعنوانیوں کے اصل محرکات اور ذمے داروں کا تعین کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ ادارہ امراضِ قلب نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر میں دل کے امراض کے علاج کا سب سے بڑا اور معروف ادارہ ہے، اور اس نوعیت کی رپورٹس نے عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
ادارہ امراضِ قلب کراچی کے ترجمان کے مطابق اسپتال میں تمام مالی اور انتظامی امور شفاف طریقے سے انجام دیے جا رہے ہیں۔
