چینی کی ٹیکس فری درآمد پر آئی ایم ایف کا شدید ردعمل، پروگرام کی سنگین خلاف ورزی پر پاکستان سے جواب طلب

حکومت اب فیصلے پر نظرِ ثانی پر غور کر رہی ہے، رپورٹ

صوبائی حکومتیں فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی دستیابی یقینی بنائیں گی: وزارت غذائی تحفظ

پاکستان کی جانب سے ٹیکس فری درآمد کی اجازت دے کر پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی منگوانے کے فیصلے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سات ارب ڈالر کے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے جس میں ٹیکس چھوٹ اور ترجیحی مراعات نہ دینے کا تحریری وعدہ شامل تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق چینی کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 200 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ حکومت نے چینی کی قلت کے باعث قیمتیں کم کرنے کی غرض سے گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ سے درآمد کی منظوری لی اور تمام درآمدی ٹیکسز معاف کر دیے، جس سے فی کلو قیمت میں اندازاً 82 روپے کمی متوقع تھی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں غذائی ایمرجنسی ہے، مگر آئی ایم ایف نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو باضابطہ خط لکھ کر اس فیصلے کا دفاع کیا، مگر اس سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔

معاہدے کے مطابق پاکستان کسی بھی قسم کی نئی ٹیکس چھوٹ یا ترجیحی مراعات دینے سے باز رہنے کا پابند تھا۔ تاہم حکومت نے آئی ایم ایف کو اطلاع دیے بغیر نہ صرف ٹیکس معاف کیے بلکہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے چینی درآمد کرنے کی ٹینڈرنگ بھی شروع کر دی، جو پروگرام کے دو نکات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بحران نئے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا غرمایی کے لیے پہلا بڑا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔ اور پروگرام کی مبینہ خلاف ورزی سے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اعتماد میں دراڑ پڑ سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ کی سمری وزیر خزانہ کی منظوری کے بغیر کابینہ سے منظور کرائی گئی، جس پر وزارت نے وزیر اعظم آفس کو تحریری اعتراض بھی بھیجا۔

مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اب اس فیصلے پر نظرِ ثانی پر غور کر رہی ہے، جس میں ٹی سی پی کی درآمد سے دستبرداری یا نجی شعبے کے لیے ٹیکس استثنیٰ واپس لینا بھی شامل ہے، تاہم کوئی حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

دوسری طرف، وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن سے دوبارہ ملاقات کی ہے، جس میں مل مالکان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کرشنگ سیزن جلد شروع کر کے مقامی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے چند ماہ قبل 7.65 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمت 140 روپے فی کلو سے بڑھ کر 200 روپے تک جا پہنچی۔ اب اکتوبر اور نومبر میں 5.35 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی ممکنہ قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ چینی درآمد کا مقصد قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے، لیکن آئی ایم ایف کی ناراضی سے معاہدے کی اگلی قسط خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*