Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 24  ستمبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی یا وڈیروں کی کالونی؟

ویب ڈیسک جمعه 21  اگست 2020
کراچی یا وڈیروں کی کالونی؟

کراچی (نمائندہ قومی اخبار) سندھ کابینہ نے کیماڑی ضلع بنانے کی منظوری دے دی جس کے بعد کراچی میں کل اضلاع کی تعداد 7 ہوگئی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کیماڑی کو ضلع بنانے کی منظوری دی گئی۔ 18 لاکھ 27 ہزار کی آبادی پر مشتمل نئے ضلع کیماڑی کی حدود شیریں جناح کالونی سے اتحاد ٹاؤن تک ہوگی جس میں 4 سب ڈویڑن ہوں گے۔ ضلع کیماڑی میں سائٹ، بلدیہ، ہاربر اور ماڑی پور شامل کرنے کی تجویز ہے۔اجلاس میں تمام اضلاع کا تخمینہ لگا کر نئے اضلاع بنانے کی تجویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔سینیئر ممبر بورڈ آ ف ریونیو (ایس ایم بی آ ر) نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آ بادی کے حساب سے ضلع غربی پورے سندھ میں بڑا ضلع ہے جس کی کل آ بادی 39 لاکھ 14 ہزار 757 بنتی ہے۔کچھ وزراء نے خیرپور کو بھی 2 ڈسٹرکٹ میں تقسیم کرنے کی تجویز دی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے تجویز دی کہ جنوبی کو ڈسٹرکٹ کراچی کا نام دیا جائے۔ کراچی کیاضلاع کو وہاں کے مشہور ایریاز کے نام دیے جائیں۔اس وقت غربی میں 7 سب ڈویڑنز ہیں جس میں منگھوپیر، سائٹ، بلدیہ، اورنگی، مومن آ باد، ہاربر اور ماڑی پور شامل ہیں۔اجلاس میں سندھ ٹرسٹ ایکٹ 2020 پر غور کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس ایکٹ کو بھی ایف اے ٹی ایف کے مطابق بنایا گیا ہے، قانون میں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ کابینہ ٹرسٹ ایکٹ منظور کرلیا گیا اور محکمہ صنعت کو سونپ دیا گیا۔میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ اگر ضلع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے بھی بن سکتے ہیں۔ کراچی کو ایک ضلع ہونا چاہیے۔ کراچی میں مزید تباہی کے لیے ساتواں ضلع بنایا جارہا ہے۔ اس فیصلے سے حکومت نے کمیٹی کے قیام کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔گلشن اقبال میں سڑک کی تعمیر و سیوریج لائن کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر وسیم اختر نے کہا کہ جتنا تقسیم حکومت نے سندھ اور کراچی کو کیا ہے دیگر کسی صوبے میں نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے سیاسی فائدے کے لیے کراچی کو تباہ کررہی ہے۔ جب صوبے بننے کی بات آتی ہے تو سندھ دھرتی ماں بن جاتی ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ ساتواں ضلع بنانے کے فیصلے کے خلاف کورٹ جائیں گے۔ سندھ حکومت کا صرف سیاسی دماغ چلتا ہے، تعمیری دماغ نہیں چلتا، ہم سے بغیر مشورے کے یہ فیصلہ کیا گیا، یہ فیصلہ انتہائی نامناسب ہے، ہم مخالفت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کراچی کو کسی صورت مزید تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ پہلے ہی 6 اضلاع میں کراچی کو تقسیم کیا گیا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں کہیں ایسی تقسیم نہیں ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ جن کے پاس ہے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ منتخب کہیں اور سے ہوئے ہیں اور فیصلے کراچی شہر کے کیے جارہے ہیں۔دریں اثنا آج چار بجے پاک سرزمین پارٹی کراچی کی تقسیم کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرے گی۔ کوئی ایسا موقع نہیں جہاں پاک سرزمین پارٹی نے سندھ میں کراچی یا دیگر شہروں کی عوام کے حقوق کی بھرپور آواز اٹھانے میں تعصب کا مظاہرہ کیا ہو۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو تنبیہ کرتا ہوں کہ انہوں نے کراچی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ لسانی بنیادوں پر کراچی کی تقسیم سے آگ و خون کا کھیل شروع ہو جائے گا۔ اپنے سندھ کارڈ کو مضبوط کرنے کیلئے کراچی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے کراچی میں کام کر کے دل جیتنے کے بجائے ہمیشہ شہر کے ٹکڑے کر کے ان پر قبضے کی کوشش کی۔ سندھ اگر دھرتی ماں ہے، تو کراچی اس کا دل ہے۔ اس دل کے چھ ٹکڑے خود پیپلز پارٹی نے کیئے اب ساتویں کا اعلان بھی کردیا۔ پیپلز پارٹی نفرتوں اور تعصب کے وہ بیچ بو رہی ہے جو خدا نخواستہ آگے چل کر پاکستان کی مزید تقسیم کی بنیاد بنے گا اور دشمنان پاکستان کو اس کا فائدہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان ہاؤس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی و دیگر اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ سندھ میں نفرت کی وہ آگ بھڑکائی جا رہی ہے جسے بجھانے میں عشرے لگ جائیں گے۔ کراچی کی لسانی بنیادوں پر تقسیم پاکستان کی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ لسانی سیاست کی وجہ سے کئی نسلیں اور شہر تباہ ہو گئے۔ جہاں نفرتیں جگہ بنا لیتی ہیں وہاں عوام الناس میں شعور نہیں رہتا۔ پھر حالات بگڑنے پر آپریشن کیا جائے گا، اربوں روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ملک چلانے والوں کو نفرتوں کی بنیاد بننے والی اس تقسیم کو آج ہی روکنا ہوگا۔ کراچی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے جس میں ہر لسانی اکائی کے لوگ لاکھوں کی تعداد میں رہتے ہیں جسے لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ راء نے کراچی کو الطاف حسین کے ذریعے مقبوضہ کراچی بلوایا، جب مقبوضہ کشمیر کی بات کی جاتی مقبوضہ کراچی کا نعرہ لگایا جاتا۔ ہم نے لوگوں کو آپس میں جوڑا اور نفرتوں کا خاتمہ کیا، صرف کراچی ہی نہیں لاڑکانہ میں کھڑے ہو کر بھی سندھیوں سے کہا کہ وہ آج کے ہمارے انصار ہیں۔ سندھی بھائیوں کے آباؤاجداد نے ہمارے آباؤ اجداد کو گلے لگایا۔ اٹھارویں ترمیم سے صوبوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ صوبوں کے بجائے صرف ایک وزیر اعلیٰ خود مختار ہوگیا۔ سندھ کے دانشوروں، لکھاریوں، طالب علموں، نوجوانوں سے کہتا ہوں سندھ کی تقسیم کے خلاف اٹھیں۔ مجھے لاڑکانہ اور تھر میں مرنے والے بچوں کا بھی اتنا ہی غم ہے جتنا کراچی میں مرنے والے بچوں کا۔ کشمیر پر قبضہ کرنے والے نریندر مودی نے کشمیریوں کے ساتھ جو کیا ہے وہی پیپلز پارٹی کراچی کے ساتھ کر رہی ہے۔ نریندر مودی جس سوچ کے تحت کشمیر کے ٹکڑے کر رہا ہے اسی سوچ پر پیپلز پارٹی یہاں ٹکڑے کر رہی ہے۔ جب کراچی والے وفاق سے مدد مانگیں تو کہتے ہیں کہ وفاق کا کراچی میں بولنا غیر آئینی، غیر اخلاقی ہے۔ کیا وزیراعظم پاکستان کراچی کیلئے کشمیر کی طرح صرف اخلاقی حمایت یا ٹریفک بند کریں؟ وفاقی حکومت، عدلیہ اور افواج پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ایم کیو ایم کراچی کے چھ ٹکڑے ہونے پر اسی وقت سڑکوں پر آتی تو آج یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔ جب زبان کی بنیاد پر کراچی کی تقسیم کی جا رہی تھی تبھی اپنی گورنر شپ اور وزارتیں چھوڑ دیتے تو کراچی تباہ نہیں ہوتا۔ جہاں کراچی میں چیف جسٹس پوچھ رہے ہیں کہ کراچی کا کچرا کیسے اٹھے گا وہاں ایک نیا ڈسٹرکٹ بنا کر کونسی دودھ کی نہریں بہیں گی۔ اہلیانِ کراچی کو شہر کی تقسیم کے خلاف عوامی مظاہرے میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ اسے نسلوں کی بقاء کا مسئلہ سمجھیں اور بھرپور شرکت کریں۔سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے اراکین تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر نکہت شکیل، کامران ٹیسوری،قمر عباس، فیصل رفیق اور دیگر اراکین کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ہنگامی پریس کانفرنس کے مقصد سے یقینا” آپ سب آگاہ ہو چکے ہونگے۔ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں سندھ کابینہ نے کراچی کی مزید تقسیم کا فیصلہ کیا ہے مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے کراچی میں نئے ضلع کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے وڈیروں کی کالونی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جسے ناکام بنانے کیلئے مہاجر عوام کو کھڑا ہونا پڑے گا۔ اپنے بیان میں آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کی اسٹیک ہولڈر نہیں ہے اس لئے اسے اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ آمرانہ فیصلے یہاں کی عوام پر مسلط کرے، کراچی کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے اسٹیک ہولڈر ہی کرسکتے ہیں اور اسٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے ہم شہر کو ٹکڑے کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔آفاق احمد نے کہا کہ بلدیاتی مدت کے اختتام پر کیماڑی ضلع کے قیام کی کوشش دراصل بلدیاتی نظام ہائی جیک کرنے کی سازش ہے جو اس سے قبل ضلع شرقی کے ٹکڑے کرکے ملیر ضلع بنا کر رچائی جاچکی ہے جس کا خمیازہ آج تک ملیر کے شہری علاقے بھگت رہے ہیں۔آفاق احمد نے کہا کہ کراچی کی ضرورت کیماڑی ضلع نہیں جنوبی سندھ صوبہ ہے، جنوبی سندھ صوبے کی مخالفت میں اچھل کود کرنے والوں کی جانب سے کراچی کو سات ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کوشش اس متعصبانہ و منافقانہ رویوں کا اظہار ہے جو سندھ کی حکمراں جماعت کا وطیرہ رہا ہے۔ آفاق احمد نے کہا کہ جو لوگ نئے صوبے کے قیام کے خلاف پیپلز پارٹی کی آواز سے آوازملانا اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں انکی آنکھیں اب کھل جانی چاہئے، پی پی کی حکومت مہاجروں اور کراچی کی کبھی خیر خواہ نہیں رہی۔ آفاق احمد نے کہا کہ کراچی کی ڈھائی کروڑ عوام کی ضرورت انتظامی بنیادوں پر جنوبی سندھ صوبے کا قیام ہے لسانی بنیادوں پر نئے ضلع کا قیام نہیں، شہر کی لسانی تقسم سے بھڑکنے والی آگ لمبے عرصے تک کراچی کی ترقی میں رکاوٹ بنی رہے گی جس کا نقصان ناصرف کراچی بلکہ پورے ملک کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے، شہر بچانے کیلئے مہاجر عوام کھڑے ہوجائیں۔پیپلز پارٹی نے پاکستان، سندھ اور کراچی کو ہمیشہ لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا ہے، مشرقی پاکستان سے لیکر دیہی و شہری سندھ کوٹہ سسٹم تک اور اب کراچی میں لسانی بنیادوں پر ملیر کیماڑی ضلع کے قیام کے فیصلے تک پیپلز پارٹی کی متعصبانہ لسانی سوچ صاف ظاہر ہے،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے کراچی میں سیاسی اور لسانی بنیادوں پر ایک اور ضلع کے اضافے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی حکومت کسی بھی قسم کی قانون سازی میں شہری سندھ اور کراچی کے منتخب نمائندوں سے مشاورت نہیں کرتی اور شہری سندھ سے منتخب نمائندوں کی گزارشات پر عمل درآمد نہیں ہوتا، پیپلز پارٹی اسمبلی میں مصنوعی عددی اکثریت اور جعلی مینڈیٹ کی غنڈہ گردی بند کرے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی کو پہلے ہی چھ ضلعوں میں تقسیم کر کے بلدیاتی انتظامیہ کو مفلوج بنا دیا گیا تھا اب ایک نیا ضلع بنا دیا گیا ہے تاکہ کراچی میں پیپلز پارٹی کا سیاست قائم رہے، پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست زندہ رکھنے کیلئے کراچی کو بربادی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے شہریوں کے ہاتھوں بری طرح مسترد ہونے کے بعد جبری طور پر کراچی کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے، جب پیپلز پارٹی ساری جماعتوں کے ساتھ مل کر بھی ڈسٹرکٹ ویسٹ میں ایم کیو ایم کو نہیں ہرا سکی تو ایسے اوچھے ہتھکنڈوں پر اْتر آئی ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کا کوئی اسٹیک نہیں ہے اور کراچی میں لسانی بنیادوں پر نئے ضلعے بنانے کا مقصد صرف اجارہ داری قائم کرنا اور مال بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی سے مخلص نہیں ہے اس سازش کا مقصد کراچی شہر کے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی حیثیت کو ختم کرنا ہے جو کراچی کے شہریوں کو کسی طور قبول نہیں ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان ہر سطح پر احتجاج کا حق رکھتی ہے بلکہ کیماڑی ضلع بنانے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج بھی کرے گی۔

(196 بار دیکھا گیا)

تبصرے