
(6 مئی 2026): پاکستان کے دیگر شہروں میں کراچی سے زیادہ گرمی ہوتی ہے مگر کس وجہ سے صرف کراچی میں لوگ گرمی سے مرتے ہیں۔
پاکستان کا شمار گلوبل وارمنگ سے شدید متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں گرمی کا پارہ کراچی سے زیادہ ہائی ہوتا ہے اور جھلسا دینے والی گرمی دن اور رات رہتی ہے، مگر کیا وجہ ہے کہ صرف کراچی میں ہی لوگ گرمی سے ہلاک ہوتے ہیں۔
کراچی میں گزشتہ کئی سالوں سے ہیٹ ویو کی لہر سینکڑوں انسانوں کی زندگی لے چکی ہے اور اس بار سے ہیٹ ویو کی لہر نے کراچی والوں کو شدید متاثر کیا ہے اور ان کا جینا محال کر دیا ہے۔
لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ملک بھر میں کئی ایسے شہر ہیں، جہاں موسم گرما میں درجہ حرارت کراچی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، مگر سورج کے غصے کا نشانہ صرف شہر قائد کے لوگ ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر شہروں کی نسبت کراچی کی گرمی میں نمی کا تناسب 70 اور 80 کے درمیان رہتا ہے جس سے پسینہ زیادہ بہنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی جسم میں توازن کو خراب کر دیتی ہے۔
اس حوالے سے ماہر ماحولیات ڈاکٹر فاطمی کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدید لہر انسان کے جسم پر کئی طرح کے منفی اثرات ڈالتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے ہیٹ ویو کے اثرات چھوٹے بچوں عمر رسیدہ اور مختلف عارضوں میں مبتلا لوگوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں ہیٹ ویو کا سب سے بڑا وار 2015 میں ہوا تھا جب کہ چند روزہ ہیٹ ویو کی لہر نے سینکڑوں جانیں لے لی تھیں۔
دو روز قبل ہیٹ ویو کی لہر نے بھی 12 افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیا، جب کہ 13 مئی سے ایک اور ہیٹ ویو لہر کی پیشگوئی ہے۔
