‘کچھ لوگ نام نہاد امن کی باتیں کرتے ہیں اور اس کی شیخی بگھارتے ہیں’: فرانسیسی صدر کے ٹرمپ پر وار

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کے موقع پر فرانس، کینیڈا اور برطانیہ نے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی پرزور وکالت کی ہے، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غزہ میں انسانی امداد پر اسرائیلی پابندیوں پر عالمی برادری کی خاموشی اور بے عملی کو باعثِ شرم قرار دیا ہے۔
نیویارک میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ایک سال قبل یہاں اسی ایوان میں تقریباً ایک درجن ممالک نے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا، لیکن اگر ہم غزہ کی موجودہ صورتحال کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں تو ہماری کیا ساکھ رہ جائے گی؟
واضح رہے کہ عالمی سطح پر سفارتی کوششوں اور اکتوبر میں امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے نام نہاد وقفے کے باوجود غاصب اسرائیلی فورسز کی جانب سے حملے جاری ہیں، اور اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ایمانوئل میکرون نے زور دے کر کہا کہ کچھ لوگ نام نہاد امن کی باتیں کرتے ہیں اور اس کی شیخی بگھارتے ہیں، لیکن اس امن کے ذریعے ایک سیکنڈ کے لیے بھی انسانی امداد کے راستے نہیں کھلے، کیا ہم صرف اس تماشے کو دیکھتے رہیں گے جو ہم سب کے لیے باعثِ شرم ہے؟
فرانسیسی صدر نے مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بستیوں کی تعمیر پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام پڑوسیوں کی خودمختاری کو پامال کر کے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے وہ ایک مہلک غلطی کر رہے ہیں، اور اس سے اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کی سلامتی کمزور ہو رہی ہے۔
ایمانوئل میکرون کے اس بیان پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا خاتمہ کرایا، تمام زندہ یرغمالیوں کو آزاد کرایا اور متوفین کی میتیں ان کے لواحقین تک پہنچائیں، اور اب وہ غزہ میں بیس نکاتی امن منصوبے پر عملدرآمد کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر لوگ صرف باتیں کرتے ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل اور دنیا بھر کے یہودی عوام کے خلاف ایران سمیت دیگر تمام درپیش خطرات کے سامنے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن یہ چیز حکومتِ اسرائیل کے غزہ یا مغربی کنارے میں کیے جانے والے اقدامات کو ہرگز جواز فراہم نہیں کرتی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں فرانس، کینیڈا، برطانیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی صدارت میں فلسطینی ریاست کے موضوع پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا۔
اس اجلاس کے دوران بھی برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ ہم سب سیاست پر کم ہوتے اعتماد کے دور میں جی رہے ہیں، دنیا بھر کے سیاستدانوں نے دہائیوں سے دو ریاستی حل پر بات کی ہے، لیکن اگر ہم اپنے الفاظ کو عمل میں نہ ڈھال سکے تو سفارتی اور بین الاقوامی عمل پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ نے مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی لگا دی ہے۔
اسی موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم مائیک کارنی نے فلسطینیوں کے لیے ایک سو ملین کینیڈین ڈالر کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کا اسی فیصد حصہ بلاواسطہ انسانی امداد پر خرچ ہوگا جبکہ باقی بیس فیصد امن و سیکیورٹی کے منصوبوں اور فلسطینی پولیس کی تربیت کے لیے مختص کیا جائے گا۔
انہوں نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت بورڈ آف پیس نے اپنے ایک بیان میں غزہ میں مستقل امن، غیر فوجی علاقے کے قیام، انسانی امداد کی فراہمی، اور تعمیرِ نو کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے زور دیا کہ بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور دو ریاستی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
