
کراچی(کرائم رپورٹر)سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن ضمیر عباسی کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج‘ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سرکاری افسر کو گرفتار کرلیا‘عدالت میں پیش22 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیاگیا۔ ضمیر عباسی کی اہلیہ کی حفاظتی ضمانت منظور‘ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکس سرکل نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو مشتبہ ٹرانزیکشن کے کیس میں گرفتار کرلیا۔ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی کو ایف آئی اے کی ٹیم نے ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ ملزم کے خلاف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مشتبہ ٹرانزیکشن کی رپورٹ پر جاری تحقیقات کے دوران حوالہ ہنڈی سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی کو یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں 8 ارب روپے سے زائد کی مبینہ مالی خوردبرد کے الزام میں رواں سال جولائی میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ادھر دوسری جانب بی آر ٹی یلو لائن منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی اہلیہ خنسہ ضمیر احمد نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، عدالت نے ان کی 10 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ضمیر عباسی کی سندھ ہائیکورٹ سے گزشتہ روز ضمانت منظور ہوئی تھی، تاہم اس کے بعد ایف آئی اے نے ضمیر عباسی، ان کی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف نیا مقدمہ درج کرلیا ہے۔وکیل نے مو¿قف اختیار کیا کہ درخواست گزار ایف آئی اے کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم گرفتاری کا خدشہ ہے، اس لیے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے خانسہ ضمیر احمد کی 10 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور ایف آئی اے کو انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے اور 10 روز کے اندر متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کی۔ایف آئی اے کے مطابق ضمیر عباسی نے مبینہ طور پر اپنے نام اور بے نامی اکاو¿نٹس کے ذریعے اہلیہ اور دیگر اکاو¿نٹس میں رقوم منتقل کیں۔ ایف آئی اے نے ضمیر عباسی، ان کی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ سے متعلق نیا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ادھروفاقی تحقیقاتی ادارے نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اور سندھ حکومت کے گریڈ 19 کے ملازم ضمیر عباسی کو منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے مقدمے میں 22 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔ایف آئی اے نے ملزم کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ضمیر احمد عباسی نے 7 لائف انشورنس پالیسیوں کے پریمیم ادا کیے جبکہ ملزم کے 24 غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ایف آئی اے کے مطابق ملزم کو قانون کے مطابق وضاحت کا موقع دیا گیا اور متعدد نوٹسز جاری کیے گئے، تاہم وہ انکوائری میں شامل نہیں ہوئے۔ ملزم کے مالی معاملات، بینک اکاو¿نٹس اور بیرون ملک سفر کا ریکارڈ تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام نے کہا کہ مقدمے میں ملزم کے ساتھیوں اور معاونت کرنے والوں کو بھی گرفتار کرنا ہے، جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے، تاہم عدالت نے ضمیر عباسی کو 22 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔دوسری جانب ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ضمیر عباسی کے نام اور مبینہ بے نامی اکاو¿نٹس میں رقوم کی منتقلی کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کے والد محمد پناہ عباسی کے اکاو¿نٹ سے 2012 سے مئی 2026 تک 1103 کرنسی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں جن کی مجموعی مالیت 5 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد ہے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ رقوم میں سے بعض مبینہ طور پر حوالہ ہنڈی کے ذریعے منتقل کی گئیں جبکہ ضمیر عباسی کی اہلیہ خنسہ ضمیر احمد کے اکاو¿نٹس میں بھی رقوم منتقل ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے 24 غیر ملکی دوروں میں متحدہ عرب امارات کے 7، سعودی عرب کے 9، تھائی لینڈ اور ترکیہ کے 2،2 جبکہ امریکا، سنگاپور، مالدیپ اور ملائیشیا کا ایک، ایک دورہ شامل ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مبینہ منی لانڈرنگ، رقوم کی بیرون ملک منتقلی اور منی ٹریل سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

