کراچی: کے ڈی اے میں مبینہ بدعنوانی اور ریکارڈ میں جعل سازی: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا

کراچی (رپورٹ اے آر ملک) ادارہ ترقیات کراچی میں مبینہ بدعنوانی، ریکارڈ میں جعل سازی اور قیمتی سرکاری زمین پر قبضے کا ایک اہم معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے سامنے آگیا۔ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کے کمرشل پلاٹ نمبر CI-67، سیکٹر 12-C پر مبینہ غیر قانونی قبضے اور تجارتی تعمیرات کے حوالے سے کے ڈی اے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، پولیس اور نجی افراد کے خلاف سنگین الزامات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ہیڈکوارٹرز کراچی کے سرکاری مراسلے نمبر Ad(E)/ACE/K/2026/423 نے معاملے کو اہم رخ دے دیا ہے۔ چیف انجینئر اور ڈائریکٹر لینڈ عاطف نقوی کے ڈی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ انجینئرنگ اور لینڈ کے افسران کو اینٹی کرپشن دفتر میں پیش کیا جائے، جہاں ان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے ساتھ پلاٹ سے متعلق دستاویزات کی جانچ کی جائے گی۔ لیٹر میں ڈائریکٹر لینڈ، ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ , سینئر کلرک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریکارڈ اور ریکارڈ کیپر نے مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سہولت دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ شکایت کے مطابق اصل فائلوں کے غائب ہونے یا ان تک غیر مجاز رسائی، جعلی الاٹمنٹ لیٹرز، قبضے کی دستاویزات اور چالان کی تیاری جیسے معاملات کی تحقیقات ضروری ہیں۔نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کے ایگزیکٹو انجینئر ناصر صدیقی ، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر اور سب انجینئر کو بھی ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کے ڈی اے سائٹ آفس کے ذریعے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی گئی اور اس سلسلے میں 12 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ ان الزامات کی روشنی میں متعلقہ انجینئرنگ افسران سے سائٹ انسپیکشن، تعمیرات کی نوعیت، پلاٹ کے استعمال اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کے حوالے سے ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن نے واضح طور پر پلاٹ پر کیے گئے تمام سائٹ وزٹس، انسپیکشن رپورٹس، جاری کردہ نوٹسز، اسٹاپ ورک آرڈرز، مسماری کی سفارشات اور متعلقہ انجینئرز کی رپورٹوں کی مصدقہ نقول مانگی ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران و اہلکاروں اور نیو کراچی انڈسٹریل ایریا تھانے کے ایس ایچ او کا نام بھی شکایت میں شامل ہے۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ متعلقہ حکام کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات جاری رہیں، جبکہ پولیس کے ایک ذمہ دار افسر پر مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے وصول کرکے معاملے پر پردہ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ قومی اخبار نے اس پلاٹ پر ہونے والی جعل سازای کی نشان دہی کی تھی

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*