کمشنر کراچی کا شہر بھر میں کریک ڈاؤن کا فیصلہ، خلاف ورزی پر بل بورڈز ہٹانے اور مقدمات درج کرنے کی ہدایت
ضلع وسطی 81 اور ضلع شرقی میں 80 غیر قانونی ہورڈنگز موجود، عوامی مقامات پر اشتہاری ڈھانچوں کی تنصیب ممنوع قرار

کراچی (رپورٹ سعد شیخ) کراچی میں غیر قانونی اشتہاری بورڈز اور ہورڈنگز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری مکمل کرلی گئی۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے متعلقہ بلدیاتی اداروں، کنٹونمنٹ بورڈز، ترقیاتی محکموں اور اشتہاری کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ تمام بل بورڈز کو مقررہ قانونی ضوابط کے مطابق بنایا جائے، بصورتِ دیگر خلافِ قانون تنصیبات ہٹا دی جائیں۔ اشتہاری اداروں کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ فیصلے کمشنر کراچی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیے گئے، جس میں ضلعی انتظامیہ، ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز، بلدیہ عظمیٰ کراچی، کنٹونمنٹ بورڈز اور اشتہاری شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شہر میں نصب غیر قانونی بل بورڈز کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے مرتب کردہ حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر جنرل وقاص عباسی نے اجلاس کو بتایا کہ کمشنر کراچی کی ہدایت پر مکمل کیے گئے ابتدائی سروے میں شہر کے مختلف اضلاع میں 224 غیر قانونی بل بورڈز اور ہورڈنگز کا سراغ لگایا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع وسطی میں 81، ضلع شرقی میں 80، ضلع جنوبی میں 47 جبکہ ضلع عربی میں 16 اشتہاری بورڈز قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نصب ہیں۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی ادارے یا اشتہاری کمپنی کو قانون سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں تصاویر کے ذریعے مختلف بل بورڈز کی خلاف ورزیوں کا جائزہ بھی لیا گیا، جبکہ معمولی قانونی خامیوں کے حامل بورڈز کو ضابطوں کے مطابق درست کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سڑکوں، فٹ پاتھوں، گرین بیلٹس، روڈ ڈیوائیڈرز، راؤنڈ اباؤٹس، نالوں اور دیگر عوامی مقامات پر اشتہاری ڈھانچوں کی تنصیب کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان پابندیوں کا اطلاق الیکٹرانک بل بورڈز اور زمین پر نصب اشتہاری ڈھانچوں پر بھی ہوگا، جبکہ پیڈسٹرین برج اور انڈر پاسز سے متعلق قابلِ اطلاق قانونی ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع جنوبی اور ضلع شرقی میں غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب اشتہاری اداروں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور غیر قانونی اجازت نامے جاری کرنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سندھ پبلک پراپرٹی (ریموول آف انکروچمنٹ) ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔شہر میں اشتہاری تنصیبات کی نگرانی مؤثر بنانے کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں ماہر آرکیٹیکٹس اور انجینئرز پر مشتمل نگرانی کمیٹیوں کے قیام کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 14 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے نوٹیفکیشن موصول ہوچکے ہیں، جبکہ باقی 11 اداروں میں اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔مزید برآں، نجی عمارتوں کی چھتوں اور دیگر نجی املاک پر نصب اشتہارات کے لیے مقررہ سائز کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمشنر کراچی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ شہر میں اشتہاری تنصیبات کو قانونی دائرے میں لانے اور خطرناک یا قواعد سے متصادم ڈھانچوں کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

